روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی پھر چھوڑ دی ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی ساری نمازوں میں تر ک کردی۔شوافع کے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کے سوا باقی چار نمازوں میں چھوڑ دی۔بہرحال چار نمازوں میں قنوت نازلہ بالاتفاق منسوخ ہے اور فجر میں اختلاف ہے،ہمارے ہاں منسوخ ہے،شوافع کے ہاں نہیں اس لیئے اگر کوئی ان چارنمازوں میں قنوت نازلہ پڑھ لے تو بالاتفاق فاسد ہوگی۔