روایت ہےحضرت حارثہ ابن وہب خزاعی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھائیں حالانکہ ہم اتنے زیادہ اور اتنے امن میں تھے جتنے کبھی نہ ہوئے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی حجۃ الوداع میں ہم مسلمان ایک لاکھ سے زیادہ تھے ہماری اپنی بادشاہت تھی مگر اس کے باوجود ہم نے قصر کیا لہذا قرآن شریف میں جو قصر کے لیئے خوف کفار کی قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مہاجر اپنے چھوڑے ہوئے وطن میں پہنچ کر مسافر ہوگا اور قصر کرے گا،دیکھو مکہ معظمہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا وطن تھا مگر آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں مسافر ہیں اور قصر پڑھ رہے ہیں۔بعض عشاق کہتے ہیں کہ مکہ میں حاجیوں کو مسافر بن کر رہنا اور مدینہ طیبہ میں مقیم ہوکر رہنا سنت ہے۔