روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ میں حاضرہوا تو آپ نے مکہ معظمہ میں اٹھارہ شب قیام کیا دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے فرمادیتے تھے اے شہر والو تم چار پڑھ لو ہم مسافر ہیں ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ روز کی مستقل نیت نہ کی تھی جیساکہ غازی جہاد میں مذبذب رہتے ہیں کہ کب لوٹیں،ایسے ہی آپ بھی تذبذب میں رہے۔خیال رہے کہ یہاں اٹھارہ دن کا ذکر ہے اور حدیث ابن عباس میں جو ابھی گزر گئی انیس۱۹ دن کا ذکر تھا،یعنی رات اٹھارہ اور دن انیس تھے یا وہاں غزوہ طائف وغیرہ کا ذکر ہے۔بہرحال حدیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ مسافر امام کو چاہیئے بعد نماز اپنے مسافر ہونے کا اعلان کردے تاکہ مقیم مقتدی اپنی رکعتیں پوری کرلیں۔