شیعوں کا کفریہ عقیدہ : متعہ (یعنی زنا) کرنا پروردگار (اللہ عزّ و جل) کی سنت ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ : یہ خاموش پیغام ہے پیرانِ عظام ، مشائخِ کرام ، مفتیانِ کرام ، نقیب و نعت خوان حضرات اور جملہ اہلِ اسلام کے نام اب بھی نہ جاگے تو کب جاگو گے ؟
محترم قارئینِ کرام : شیعوں کا مفسّرِ اعظم ملا فتح اللہ کاشانی رافضی شیعہ نکاح متعہ (یعنی زنا) کے فضائل بیان کرتے ہوئے اللہ کی توحین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ : متعہ کرنا پروردگار کی سنت ہے ۔ (استغفراللہ نقلِ کر کفر نہ باشد) ۔ (تفسیر کبیر منھج الصادقین للکاشانی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 494)
متعہ اور زنا میں مماثلت
(1) زنا میں زانیہ کو اجرت دی جاتی ہے اور کبھی کبھی زانیہ زانی کو اجرت دیتی ہے ۔
(2) زنا کے لئے وقت بھی متعین کیا جاتا ہے کہ کب سے کب تک ۔
(3) زنا میں تنہائی ضروری ہوتی ہے ۔
(4) زنا میں عورتوں کی قید نہیں ہے ، جتنی عورتوں سے چاہو زنا کر لو ۔
(5) زنا صرف جنسی لذت کے لئے ہوتا ہے ۔
(6) زنا میں مقررہ وقت کے بعد جب جدائی ہوتی ہے تو کوئی طلاق و خلع کی بات نہیں ہوتی ۔
(7) زانیہ وارث نہیں بن سکتی ۔
(8) زانی کے ذمے زانیہ کا نان و نفقہ بھی نہیں ہوتا ہے ۔
اوپر کی عبارت پڑھنے کے بعد اب آپ ہر جملے سے لفظ “زنا” نکال دیں اور اس کی جگہ “متعہ” کا لفظ رکھ دیں اور پھر پوری عبارت پڑھیں ، دونوں میں ذرا بھی فرق آپ کو نہیں ملے گا ، ہاں بس ایک ہی چیز کا فرق ہوگا کہ اِسے “زنا” کہا جاتا ہے اور اُسے “متعہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اب اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد اللہ عزّ و جل کا فرمان بھی پڑھ لیں : “وَلَا تَقرَبُوا الزِّنَا اِنَّهُ کَانَ فَاحِشَةً” یعنی زنا کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ یہ بہت ہی بری اور فحش چیز ہے ۔ (بنی اسرائیل 32)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے متعہ کو حرام کردیا،حضرت علی رضی اللہ عنہ
محترم قارئینِ کرام شیعووں کے محققین لکھتے ہیں : حضرت زید بن علی اپنے آباء رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے پالتو گدھوں کے گوشت اور نکاح متعہ کو حرام کردیا ۔ (الاستبصار جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 149 دارالتعارف بیروت لبنان)،(تہذیب الاحکام جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 351)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ : إِنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم نَهَى عَنِ المُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ.
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے غزوہ خیبر کے دنوں میں متُعہ کرنے (تھوڑی مدت کے لیے نکاح کرنے) اور پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا ۔ (بخاري، کتاب النکاح، باب نهي رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم عن نكاح المتعة، ۵، 5: 1966، رقم: 4825، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة،چشتی)
مسند احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے اور گدھے کے گوشت کی ممانعت فرمائی تھی ۔ (أحمد بن حنبل، مسند، 2: 189، رقم، 812)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ.
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت فرمائی تھی ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب النکاح، باب نهی عن المتعة، 1: 630، رقم: 1961،چشتی)
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب خیبر کے دن متعہ حرام کردیا گیا تھا تو پھر فتح مکہ کے موقع پر متعہ کیوں ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ متعہ خیبر کے دن ہی حرام کردیا گیا تھا فتح مکہ کے موقع پر ضرورت کی وجہ سے تین دن کے لئے عارضی رخصت دی گئی اور پھر اس کو دائماحرام کردیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر تاکیدا اس کی حرامت کو دہرایا گیا جیسے اور کئی حرام کاموں کی حرمت کو اس موقع پر بیان کیا گیا ۔
حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَالَ: أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے متعہ کی ممانعت کر دی اور فرمایا سنو! آج سے قیامت تک کے لیے متعہ حرام ہے ، اور جس شخص نے متعہ کے عوض کچھ دیا ہے وہ اس میں سے واپس نہ لے ۔ (مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب نكاح المتعة وبيان أنه أبيح ثم نسخ ثم أبيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة، 2: 1027، رقم: 1406، بیروت: دار احیاء التراث العربی،چشتی)
حجۃ الوداع کے موقع پر ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے نکاح متعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا جیسا کہ حضرت ربیع بن سبرہ جہنی روایت بیان کرتے ہیں : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه وآله وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْعُزْبَةَ قَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا، قَالَ: فَاسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، فَأَتَيْنَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْكِحْنَنَا إِلَّا أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم ، فَقَالَ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، مَعَهُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ، وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا عَلَى امْرَأَةٍ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَمَكَثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه وآله وسلم قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخْلِ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا ۔
ترجمہ : ہم حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ گئے ، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجرو ہمیں گراں لگنے لگا ہے ۔ آپ نے فرمایا ان عورتوں سے فائدہ حاصل کرو ، انہوں نے ہم سے نکاح کرنے سے انکار کر دیا، ہاں وقت معین تک نکاح کی خواہش کی۔ ہم نے اس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان سے دن متعین کر لو، میں اور میرا چچا زاد بھائی گئے ، میرے پاس ایک چادر تھی لیکن میرے بھائی کی چادر مجھ سے اچھی تھی اور میں اس سے زیادہ جوان تھا، ہم ایک عورت کے پاس گئے ، وہ بولی چادر چادر سب برابر ہے، میں نے اس سے نکاح کر لیا اور اس کے پاس اس رات ٹھہرا۔ جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود اور دروازہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے اے لوگو! میں نے تمہیں متعہ کی اجازت دی تھی لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسے تا قیامت حرام فرما دیا ہے اور جس کے پاس کوئی ایسی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے اور جو اسے دیا ہے وہ اس سے واپس نہ لیا جائے ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب النکاح، باب نهی عن المتعة، 1: 630، رقم: 1962)
