👍
شاگردوں نے استاد سے پوچها :
مغالطہ( Paradox ) سے کیا مراد هے؟
استاد نے کہا:
اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں.
دو مرد میرے پاس آتے ہیں. ایک صاف ستهرا اور دوسرا گندا.
میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کرکے پاک و صاف ہو جائیں.
اب آپ بتائیں کہ ان میں سے کون غسل کرے گا؟
شاگردوں نے کہا: گندا مرد.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ صاف آدمی ایسا کرے گا کیونکہ اسے نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
بچوں نے کہا: صاف آدمی.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ گندا نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے.
پس اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا: گندا.
استاد نے کہا :
نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو نہانے کی ضرورت ہے.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا :دونوں.
استاد نے کہا:
نہیں کوئی نہیں. کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں جبکہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں.
اب بتائیں کون نہائے گا؟
بولے :کوئی نہیں.
پهر بولے:
استاد آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب درست معلوم ہوتا ہے. ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو؟
