Site icon اردو محفل

صحابہ رضی اللہ عنہم کے گستاخ جونیٸر مرزا جہلمی کذّاب کو جواب

صحابہ رضی اللہ عنہم کے گستاخ جونیٸر مرزا جہلمی کذّاب کو جواب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارٸینِ کرام : آج کے دور کا سب سے بڑا کذّاب احادیث میں تحریف کرنے والا من گھڑت روایات اور قرآن کا من گھڑت مفہوم و ترجمہ بیان کرنے والا کذاب اپنے ایک لیکچر میں اس جاہل نے سیدنا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی توہین کی ہے (جوکہ یوٹیوب پر موجود ہے) ۔ یہ ظالم اجہل کذاب سیدنا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی ذات ِگرامی پر بہتان تراشی کرتے ہوئے صحیح مسلم کی ایک حدیث کے بیان میں کہتا ہے : ابو سفیان کلمہ پڑھنے کے بعد جب وہاں (سیدنا بلال ، سیدنا سلمان فارسی ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہم کے پاس) سے گزرا ۔ ان کو بھی پتا تھا ، یہ مسلمان ہو چکا ہے ۔ تو حضرت بلال نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اللہ کی تلواروں نے دشمن خدا سے ابھی تک حق قبول(وصول؟)نہیں کیا ۔ (مسئلہ 96، وقت 42:12 تا 44:52)

یہ ظالم اپنی جہالت و ضلالت کی وجہ سے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق مسلمانوں میں بدگمانی پیدا کرنے کی مذموم اور ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ اس جاہل کو یہ معلوم نہیں کہ سیدنا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ، جبکہ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے ۔ جب سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے ۔

اسی حدیث کی شرح میں شارحِ صحیح مسلم ،علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ (676-631ھ) بڑی صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں : وَہٰذَا الْإِتْیَانُ لِأَبِي سُفْیَانَ کَانَ وَہُوَ کَافِرٌ فِي الْہُدْنَۃِ بَعْدَ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃِ .

ترجمہ : ابو سفیان کی یہ آمد حالت ِکفر میں ہوئی تھی ۔ یہ صلح حدیبیہ کے بعد (مسلمانوں اور کفار کے مابین) معاہدے والا زمانہ تھا۔(شرح النووي علی صحیح مسلم : 66/16۔چشتی)

امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م : 1014ھ) اسی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّکَ’، أَيْ حَیْثُ رَاعَیْتَ جَانِبَ الْکَافِرِ بِرَبِّہ .

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ سے) فرمایا : آپ نے اپنے ربّ کو ناراض کیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے (صحابہ کے مقابلے میں) اپنے ربّ کے ساتھ کفر کرنے والے کی طرف داری کی ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح : 4006/9)

یعنی ابوسفیان اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے ، جب صحابہ نے انہیں اللہ کا دشمن کہا تھا ۔ اس کے برعکس کذاب اعظم اجہل محمد علی مرزا کہتا ہے کہ ابو سفیان مسلمان ہو گئے تھے ، ان کے مسلمان ہونے کا علم ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تھا ، پھر بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کےلیۓ اللہ کے دشمن کے الفاظ استعمال کیئے ۔ معاذاللہ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Exit mobile version