وَالّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الْفٰحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنۡکُمْ ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمْسِکُوۡہُنَّ فِی الْبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰىہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا ﴿۱۵﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرلیں ان پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند کردو یہاں تک کہ موت ان (کی زندگی) کو پورا کردے یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ بنا دے۔
{ فَاسْتَشْہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنۡکُمْ: ان پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو۔} مسلمانوں میں سے جو عورتیں زنا کا اِرتِکاب کریں ان کے بارے حکم دیا گیا کہ ان پر زنا کے ثبوت کیلئے چار مسلمان مردوں کا گواہ ہوناضروری ہے جو عورتوں کے زنا پر گواہی دیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں حکام سے خطاب ہے یعنی وہ چار مردوں سے گواہی سنیں۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵، ۱/۳۵۷)
زنا کے ثبوت کے لئے گواہی کی شرائط:
زنا کا ثبوت گواہی سے ہو تو ضروری ہے کہ زنا کے گواہ چار عاقل ،بالغ ، مسلمان مرد ہوں کوئی عورت نہ ہو، چاروں نیک اور متقی ہوں ، اور انہوں نے ایک وقتِ مُعَیَّن میں زنا کا یوں مشاہدہ کیا ہو جیسے سرمہ دانی میں سلائی نیز یہ چاروں گواہ حلفِ شرعی کے ساتھ گواہی دیں۔ اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہوئی تو زنا ثابت نہ ہو گا اور گواہی دینے والے شرعاً اسی اسی کوڑوں کے مستحق ہوں گے۔ (فتاوی رضویہ، ۱۳/۶۲۳، ملخصاً)
{ فَاَمْسِکُوۡہُنَّ فِی الْبُیُوۡتِ: ان عورتوں کو گھر میں بند کر دو۔} زانیہ عورتوں کو موت آنے تک گھروں میں قید رکھنے کا حکم زنا سے متعلق کوڑوں اور رَجم کی سزا مقرر ہونے سے پہلے تھا جب زنا کی حد کے بارے میں احکام ناز ل ہو ئے تو یہ حکم مَنسوخ ہو گیا۔ (تفسیرات احمدیہ، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۲۴۰)
زنا اور قَذف کی سزا کا بیان سورۂ نور آیت نمبر 2اور 4 میں بیان ہواہے۔
زنا کی مذمت:
اس آیت میں زنا کرنے والوں کی سزا سے متعلق بعض احکام بیان ہوئے،اس مناسبت سے ہم یہاں زنا کی مذمت پر 4 اَحادیث ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں پر زنا کی قَباحت و برائی مزید واضح ہو اور وہ ا س برے فعل سے بچنے کی کوشش کریں ، چنانچہ
