روایت ہے حضرت عمرو ابن حریث سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ پرسیاہ عمامہ تھا جس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں کے نیچے لٹکائےتھے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:کہ ایک یہ کہ خطبہ ونمازعمامہ سے بہترہے۔ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ عمامہ کی نماز سترنمازوں سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ سیاہ عمامہ بھی سنت ہے۔تیسرے یہ کہ بغیرشملہ کا عمامہ سنت کے خلاف ہے،شملہ ضرور چاہیئے۔چوتھے یہ کہ عمامہ کے دو شملے ہونا افضل ہیں اور دونوں پشت پر پڑے ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا اور شملہ ایک بالشت سے کچھ زیادہ،امیر معاویہ اورحضرت ابودرداء اکثر سیاہ عمامہ باندھتے تھے،اسی سنت کی بنا پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمان ابن عوف کے سیاہ عمامہ باندھا تھا یہ واقعہ جویہاں مذکور ہوا آپ کے مرض وفات کے خطبہ کا ہے۔