Site icon اردو محفل

ماں کا حق

ماں کا حق

ایک شخص نے اپنی ماں کو کندھے پر سوار کرکے سات حج کرائے ساتویں حج پر خیال آیا کہ شاید میں نے ماں کا حق ادا کر دیا رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہاتھا کہ جب تو بچہ تھا اور سردی سخت تھی تو ماں کے پاس سورہا تھا تو نے پاخا نہ کردیا تیری ماں نے بستر اٹھا کر دھویا غریبی کی وجہ سے دوسرا بستر نہ تھا تیری ماں اسی گیلے بستر پر کڑکتی سردی میں لیٹ گئی اور تجھ کو رات بھر اپنے سینے پر لٹا ئے رکھا تو کہتا ہے حق ادا ہو گیا اے نادان !ابھی توتواس ایک رات کا بھی حق ادا نہیں کر سکا۔ ( تعلیم الاخلاق)

حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا ۔یا رسول اللہﷺ ! ایک راہ میں ایسے گرم پتھروں پر کہ گوشت ان پر ڈالا جاتا تو کباب بن جاتا میں چھے میل تک اپنی ماں کو اپنی گردن پر سوار کر کے لے گیا ہوں کیا اب اس کا حق ادا ہو گیا ؟ رسول کریم علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا : تیرے پیدا ہونے میں جس قدر دردوں کے جھٹکے ا س نے اٹھائے ہیں شاید ان میں سے ایک جھٹکے کا بدلہ ہوسکے۔ (طبرانی)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ہماری ولادت کے وقت درد کے جو جھٹکے ماں نے برداشت کئے ہیں رحمت عالم ﷺ اس درد کی اہمیت کو بیان فرمارہے ہیں اور صحابئی رسول اکی خدمت پر قربان جائیے کہ چھ میل تک کندھے پر اُٹھا کر لے جارہے ہیں اور وہ بھی سخت چلچلاتی دھوپ میں کہ کا ش میری والدہ کا حق ادا ہوجائے ! لیکن رسول اعظم ﷺ اس خدمت کی اہمیت اور ماں کے درد، دونوں کا مقام بتا رہے ہیں تاکہ ہر بچہ اپنی ماں کے درد اور تکلیف کو محسوس کرے اور پوری زندگی ان کے قدموں سے لپٹا رہے اور حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ ربِّ قدیر جل جلالہ ہم سب کو اپنی والدہ کے مقام کو سمجھنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم

Exit mobile version