روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتےہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے تھے جن کے درمیان آپ بیٹھتے تھے ۱؎ قرآن پڑھتے تھے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے آپ کی نماز بھی درمیانی تھی اور خطبہ بھی درمیانی۔(مسلم)
شرح
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جمعہ کے لیئے خطبے دو پڑھے جائیں۔دوسرے یہ کہ خطبہ میں قرآن کریم کی آیت بھی تلاوت کی جائے۔تیسرے یہ کہ خطبے میں وعظ و نصیحت کے الفاظ بھی ہوں۔چوتھے یہ کہ خطبہ نہ بہت دراز ہو نہ بہت مختصر۔پانچویں یہ کہ دوخطبوں کے درمیان منبر پر بیٹھ کر فاصلہ کرے۔خیال رہے کہ خلفاء اورصحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا ذکر نہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے نہ سنت صحابہ،بلکہ بدعت حسنہ ہےجس کی وجہ ہم پہلےعرض کرچکے ہیں یہ ضرور کی جائے۔جو لوگ ہر بدعت کو حرام کہتے ہیں وہ اس کو کیا کہیں گے۔