روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سےفرماتےہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو عیدوں سے زیادہ پڑھیں بغیر اذان کے اور بغیرتکبیر کے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ چونکہ امیرمعاویہ کے زمانہ میں زیادنےعیدین میں اذان شروع کردی تھی اس کی تردید کے لیے صحابہ کرام بارہا یہ فرمایاکرتے تھے تاکہ لوگ اس سے باز رہیں۔الحمدﷲ! کہ زیاد کی یہ بدعت چلی نہیں۔خیال رہے کہ اگر نمازعید کی اطلاع گولوں یا طبل یا اعلان سے کردی جائے کوئی مضائقہ نہیں،مگر اذان وتکبیر سوائے نماز پنجگانہ اور جمعہ کسی نماز کے لیے نہیں۔