روایت ہےحضرت جابرسے فرماتےہیں کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کے رستے میں اختلاف کرتے ۱؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی عیدگاہ جاتے اور راستے سے واپس ہوتے دوسرے راستہ سےتاکہ دونوں راستوں کو برکت حاصل ہواور دونوں طرف کے باشندے آپ سے فیض پائیں،اور ہرطرف کے منافقین مسلمانوں کے ازدہام کو دیکھ کر جلیں اور راستوں میں بھیڑکم ہو دونوں راستوں کے فقراء پر خیرات ہو،اہلِ قرابت کی قبور کی زیارتیں ہوں جو ان راستوں میں واقع ہیں اور دونوں راستے ہماری نمازو ایمان کے گواہ بن جائیں،لیکن جاتے وقت دراز رستہ اختیار فرماتے اور لوٹتے وقت مختصر،تاکہ جاتے ہوئے قدم زیادہ پڑیں اور ثواب زیادہ ملے۔معلوم ہوا کہ عیدگاہ پیدل جانا اور جاتے آتے راستہ بدلنا سنت ہے۔