أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ اَوۡ تَهۡدِى الۡعُمۡىَ وَمَنۡ كَانَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
ترجمہ:
کیا آپ بہروں کو (وعظ) سنائیں گے اور اندھوں کو (سیدھی راہ) دکھائیں گے اور ان لوگوں کو کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
کیا آپ بہروں کو (وعظ) سنائیں گے اور اندھوں کو (سیدھی راہ) دکھائیں گے اور ان لوگوں کو کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں پس اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تو بیشک ہم پھر بھی ان سے انتقام لینے والے ہیں یا ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھادیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، سو بیشک ہم ان پر بہت قدرت رکھنے والے ہیں
(الزخرف :40-42)
کفار مکہ کی ضد اور عناد پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا
الزخرف : ٣٦ میں یہ فرماتا تھا کہ ان کی آنکھوں میں رتوند ہے یعنی ضعف بصر ہے اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ یہ اندھے اور بہرے ہیں اور واقع میں اسی طرح ہوتا ہے، جس انسان ابتداء میں دنیا کی طرف مائل ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اس کی بینائی کمزور ہے، پھر جب وہ دنیا کی زیب وزینت میں زیادہ محوہوجاتا ہے اور نیک اعمال کو ترک کرکے شہوانی لذتوں کے حصول میں زیادہ سرگرم ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کو ترک کردیتا ہے اور جب وہ اسی حال پر مستمررہتا ہے تو وہ ضعف بصر سے عدم بصر کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار اور مشرکین کو دن رات اسلام کی طرف بلانے کی جدوجہد میں لگے رہتے تھے اور وہ اپنی گمراہی اور سرکشی میں اور زیادہ پختہ ہورہے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یعنی ان لوگوں کے کانوں پر کفر اور گمراہی کی ڈاٹ لگ چکی ہے اور فرمایا : کیا آپ اندھوں کو ہدایت دیں گے۔ یعنی یہ آپ سے اور آپ کے دین سے بہت دور ہوچکے ہیں، جب آپ انہیں قرآن سناتے ہیں تو لگتا ہے یہ بہرے ہیں اور جب آپ انہیں معجزات دکھاتے ہیں تو لگتا ہے یہ اندھے ہیں، پھر اللہ نے بتایا کہ ان کا بہرا ہونا اور اندھا ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 40
