أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ۞
ترجمہ:
سو جب وہ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو اسی وقت وہ ان نشانیوں پر ہنسنے لگے
تفسیر:
الزخرف : ٤٧ میں فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ معجزات پر ہنسنے لگے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنا عصازمین پر ڈالتے تو وہ اژدھا بن جاتا، پھر اس کو ہاتھ میں لے کر پکڑتے تو وہ پھر لاٹھی بن جاتا۔ وہ اپنا ہاتھ اپنی بغل کے اندر ڈالتے تو وہ چمکنے لگتا اور دوبارہ جب اس کو بغل میں ڈالتے تو وہ پھر اصلی حالت پر آجاتا، فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑانے کے لیے ان پر ہنستے تھے اور وہ ان کا مذاق اڑا کر اپنے متبعین کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے یہ افعال جادو ہیں، انہوں نے لوگوں کے خیالوں پر اثر کیا ہے اور وہ بھی اس کا مقابلہ کرنے پر قادر ہیں۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 47
