أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَقَالُوۡا يٰۤاَيُّهَ السَّاحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَۚ اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور انہوں نے کہا : اے جادوگر ! آپ ہمارے لیے اس عہد کے وسیلے سے دعا کیجئے جو آپ کے پاس ہے، بیشک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اور انہوں نے کہا : اے جادوگر ! آپ ہمارے لیے اس عہد کے وسیلے سے دعا کیجئے جو آپ کے پاس ہے، بیشک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں پھر جب نے ان سے عذاب دور کردیا تو وہ اسی وقت اپنے عہد کو توڑنے والے تھے اور فرعون نے اپنی قوم میں ندا کی اور کہا : اے میری قوم ! کیا یہ مصر کا ملک میرا نہیں ہے اور یہ دریا جو میرے محل کے کنارے بہہ رہے ہیں کیا تم نہیں دیکھ رہے (الزخرف : 49-51)
جب قوم فرعون نے عذاب کا معائنہ کرلیا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے جادوگر ! اور چونکہ پہلے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہتے تھے اب بھی انہوں نے آپ کو اپنی عادت کے مطابق جادوگر کہا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ علماء جادو گر کہتے تھے تو بر سبیل تعظیم کہا : اے جادوگر ! حضرت ابن عباس نے فرمایا : اے جادوگر کا معنی ہے : اے عالم ! اور ان کے دور میں جادوگر بہت عظیم شخص ہوتا تھا اور وہ اس کی تعظیم کرتے تھے اور ان کے نزدیک جادو کرنا مذمت کی صفت نہیں تھی، اس کی ایک اور توجیہ یہ ہے کہ ان کی مراد یہ تھی کہ اے وہ شخص جو ہم پر اپنے جادو کی وجہ سے غالب آگیا۔
انہوں نے کہا : آپ ہمارے لیے اس عہد کے وسیلہ سے دعا کیجئے جو آپ کے پاس ہے، یعنی آپ ہمیں یہ بتائیے کہ اگر ہم ایمان لے آئیں تو یہ عذاب ہم سے دور ہوجائے گا اور اس عہد کی بناء پر آپ انے رب سے سوال کیجئے کہ وہ ہم سے یہ عذاب دور کردے، پھر بیشک آئندہ ہدایت پر قائم رہیں گے۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 49
