أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ ۞
ترجمہ:
(اس دن وہ کہیں گے :) اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کردے، بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں
الدخان : ١٢ میں فرمایا : ”(اس دن وہ کہیں گے :) اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کردے، بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں “
کفار یہ کہیں گے : اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کردے تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے، ایک قول یہ ہے کہ قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہا : اگر اللہ نے ہم سے اس عذاب کو دور کردیا تو ہم اسلام لے آئیں گے، پھر انہوں نے اپنے وعدہ کے خلاف کیا، قتادہ نے کہا : اس عذاب سے مراد دھواں ہے، نقاش نے کہا : اس سے مراد ان کی بھوک ہے۔
ان دونوں قولوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیوں کہ دھوئیں سے مراد وہ اندھیرا ہے جو بھوک کی وجہ سے ان کے آگے چھا گیا تھا اور بھوک اور قحط کو دھوئیں سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 12
