Site icon اردو محفل

وَقَالُوۡا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ‌ؕ وَمَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ‌ ۚ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 24

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ‌ؕ وَمَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ‌ ۚ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا : ہماری تو صرف یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم (اسی دینا) میں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف دہر (زمانہ) ہلاک کرتا ہے (اور واقعہ یہ ہے کہ) انہیں اس کا کچھ علم نہیں وہ محض گمان کررہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور انہوں نے کہا : ہماری تو صرف یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم (اسی دینا) میں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف دہر (زمانہ) ہلاک کرتا ہے (اور واقعہ یہ ہے کہ) انہیں اس کا کچھ علم نہیں وہ محض گمان کررہے ہیں اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کی جوابی دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے (مرے ہوئے) باپ دادا کو لے آئو آپ کہیے کہ اللہ ہی تم کو زندہ کرتا ہے، پھر (وہی) تم پر موت لائے گا، پھر قیامت کے دن تم سب کو جمع فرمائے گا جس (کے وقوع) میں کوئی شک نہیں ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (الجاثیہ : 24-26)

کفار کے نقل کردہ قول پر ایک اعتراض کا جواب

ان آیتوں میں اللہ سبحانہ ‘ نے کفار مکہ کے قیامت اور حشرونشر کے متعلق شبہات کو زائل فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم (اسی دنیا میں) مرتے اور جیتے ہیں، اس پر یہ اعضرات ہوتا ہے کہ ان پر واجب تھا کہ وہ یوں کہتے کہ ہم اسی دنیا میں جیتے اور مرتے ہیں کیونکہ دنیا میں حیات پہلے ہے اور پھر اس کے بعد موت آتی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے نقل کیے ہوئے قول میں پہلے موت ہے اور اس کے بعد زندگی کا ذکر ہے۔ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) اس قول میں جس موت کا پہلے ذکر کیا ہے اس سے مراد وہ نطفہ ہے جو ان کے آباء کی پشت میں تھا اور وہ نسوانی بیضہ ہے جو ان کی مائوں کے رحم میں ہوتا ہے، ہرچند کہ نطفہ اور بیضہ میں زندہ جرثومے ہوتے ہیں لیکن ظاہری صورت میں وہ پانی غیر متحرک اور مردہ ہوتا ہے، اس لیے ظاہری طور پر اس کو موت سے تعبیر فرمایا۔

(٢) ان کے قول کی توجیہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں مرتے ہیں، پھر ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔

(٣) ان کا مطلب یہ تھا کہ بعض لوگ مرجاتے ہیں اور بعض لوگ زندہ رہتے ہیں۔

(٤) موت سے ان کی مراد یہ تھی جو لوگ مرچکے ہیں اور حیات سے ان کی مرادان لوگوں کی حیات تھی جو ابھی زندہ ہیں اور ان پر بعد میں موت آئے گی۔

دہر کا لغوی اور عرفی معنی

انہوں نے کہا : ہمیں صرف دہر (زمانہ) ہلاک کرتا ہے، اس قول میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا انکار کیا اور اس طرح انہوں نے پہلے قول میں قیامت اور حشر ونشر کا انکار کیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا انکار کیا، ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اشیاء کے طبعی خواص سے ہورہا ہے یا افلاک کی حرکات سے ہورہا ہے۔ اس آیت میں چونکہ دہر کا ذکر آگیا ہے اس لیے ہم دہر کے متعلق تحقیق کرنا چاہیے ہیں۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ دہر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اصل میں دہر کا معنی ہے : اس جہاں کیوجود میں آنے سے لے کر اس کے اختتام تک کی مدت، اسی اعتبار سے قرآن مجید میں ہے :

ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکور (الدھر :1)

بے شک انسان پر زمانہ کا ایک وقت ایسا گزرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

پھر استعمال میں ہر مدت کثیرہ کو دہر کہا جاتا ہے، اس کے برخلاف زمانہ کا اطلاق قلیل اور کثیر دونوں مدتوں پر ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کا جہر، اس سے مراد اس شخص کی حیات ہوتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زمانہ نے فلاں شخص پر مصائب نازل کردیئے۔ (المفردات ج ١ ص ٢٣٠، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

اہل عرب کی عادت ہے کہ وہ دہر کی مذمت کرتے ہیں اور مصائب اور حوادث کی زمانہ کی طرف نسیت کرتے ہیں اور طویل زمانہ کو دہر کہتے ہیں اور دنیا کی کل زندگی کو بھی دہر کہتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمانہ کو بُرا کہنے اور اس کو سبّ وشتم کرنے سے منع فرمایا ہے، یعنی ان حوادث اور مصائب کے فاعل کو بُرا نہ کہو کیونکہ جب تم مصائب کے فاعل اور خالق کو برا کہو گے تو تمہارا یہ سبّ وشتم اللہ پر واقع ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے ارادہ کے موافق ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے نہ کہ دہر، اور تمام حوادث کو لانے والا اللہ سبحانہ ‘ ہے نہ کہ اس کا کوئی غیر، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے اس عقیدہ کا رد فرمایا ہے کہ مصائب اور حوادث کو لانے والا دھر ہے۔ (النہایہ ج ٢ ص ١٣٤۔ ١٣١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

دہر کے متعلق احادیث

دہر کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : ابن آدم دہر کو بُرا کہتا ہے اور میں (خالق) دہر ہوں، میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن کی گردش ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٨١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٤٦، السنن للنسائی رقم الحدیث : ١١٤٨٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ ابن آدم دہر کو بُرا کہہ کر مجھے اذیت پہنچاتا ہے، میں (خالق) دہر ہوں، رات اور دن کو گردش دیتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٢٦، صحیح مسلم رقم الحدیث المسلل : ٥٧٥٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٢٧٤)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جب ابن آدم کہتا ہے : اے دہر کی ناکامی ! تو وہ مجھے اذیت پہنچاتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے : اے دہر کی ناکامی یا نامرادی، پس بیشک میں (خالق) دہر ہوں، میں ہی رات اور دن کو گردش میں رکھتا ہوں اور میں جب چاہو گا تو ان کو قبض لوں گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث المسلسل : ٥٧٥٦ )

کلمات حدیث کی تشریح

اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : ابن آدم مجھے اذیت پہنچتا ہے اس پر یہ سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو اذیت پہنچانا محال ہے، پھر اللہ تعالیٰ کو کون اذیت پہنچاسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اطلاق مجازی ہے یعنی ابن آدم میرے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جو ایک اذیت پہنچانے والا کسی شخص کے ساتھ کرتا ہے۔

احادیث میں ہے کہ میں دہر ہوں، اس کا معنی ہم نے کیا ہے کہ میں خالق دہر ہوں کیونکہ دہر یعنی زمانہ تو ہر لمحہ اور ہر پل جاتا اور آتا رہتا ہے اور زائل اور متبدل ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ باقی اور لافانی اور لازوال ہے۔

علماء نے بیان کیا ہے کہ ان احادث کے وارد ہونے کا سبب یہ ہے کہ اہل عرب کی عادت یہ تھی کہ جب ان پر حوادث، نوازل اور مصائب نازل ہوتے، مثلاً کسی کا مال ضائع ہوجاتا، یا وہ بوڑھا ہوجاتا یا مرجاتا تو وہ کہتے تھے کہ دہر نے ایسا کردیا۔ اردو شاعری میں بھی مظالم اور مصائب کا اسنادزمانہ، آسمان اور فلک کی طرف کیا جاتا ہے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دہر کو بُرا نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دہر ہے، یعنی خالق دہر ہے، پس تم مصائب کے خالق کو بُرا نہ کہو جب تم اس کو بُرا کہو گے تو یہ بُرائی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ان مصائب کو نازل کرنے والا ہے۔ رہا دہر تو وہ تو زمانہ ہے، اس کی مصائب کو نازل کرنے میں کوئی تاثیر نہیں ہے، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے۔

کفار اور دہریے بلا دلیل اللہ سبحانہ ‘ کا انکار کرتے ہیں۔

اس کے بعد فرمایا :” (اور واقعہ یہ ہے کہ) انہیں اس کا کچھ علم نہیں وہ محض گمان کررہے ہیں ‘

یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اس کی توحید، قیامت اور حشر ونشر کا انکار کررہے ہیں اور حوادث اور نوازل کا اسناد دہر اور زمانہ کی طرف کررہے ہیں، ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، یہ محض شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں اور اسی بنیاد پر اپنے عقائد کی تعمیر کررہے ہیں، اس کے بر خلاف مسلمانوں کے عقائد دلائل قطعیہ اور نصوص صریحہ پر مبنی ہیں۔ وہ قیامت، حشر ونشر اور جنت اور دوزخ کو مانتے ہیں اور یہی انبیاء علیہم لاسلام اور جمعی مؤمنین کے عقائد ہیں اور جس کے یہ عقائد ہوں گے وہ نجات پالے گا اور جس کے عقائد اس کے خلاف ہوں گے وہ ہلاک ہوجائے گا اور ان عقائد کے لوازم سے یہ ہے کہ توحید پر ایمان لایا جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جو چیز بھی کائنات میں حادث ہوتی ہے، اس کا موجد اور خالق اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ وہی ہر چیز میں موثر ہے، اسی لیے دہر کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور تمام تصرفات اسی کی طرف راجع ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 24

Exit mobile version