أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَلِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کام کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کام کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا پس کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا، پس اللہ کے بعد اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے، تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے (الجاثیہ :22-23)
اللہ سبحانہ ‘ کا کفار اور فجار کو عذاب دینا اس کا ظلم نہیں عدل ہے
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور عارفین کائنات کے ذرہ ذرہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی آیات اور تجلیات نظر آتی ہیں اور زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل اور اس کی صفت رحم کا اظہار ہو، کفار کو جو اللہ سبحانہ ‘ ان کے گناہوں کی سزا دے گا یہ اس کا عدل ہے اور مؤمنین کو جو اللہ تعالیٰ ثواب عطا فرمائے گا یہ اس کا فضل ہے، اس لیے فرمایا : ” اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کام کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا “
بعض بےدین اور دہرایے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ظالم کو پیدا کیا اور اس کو کمزور اور مظلوم پر مسلط کردیا، پھر کئی مرتبہ وہ ظالم سے مظلوم کا انتقام نہیں لیتا اور یہ اللہ کا ظلم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا مالک ہے اور مالک اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے، یہ اس کا ظلم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
لا یسئل عما یعفل وھم یسئلون (الانبیاء :23) اللہ سے اس کا فعل کا سوال نہیں کیا جائے گا اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا
دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بظاہر بھی ظلم نہیں ہے، ظلم اس وقت ہوتا جب اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ اس جہان کے بعد ایک اور جہان پیدا فرمائے گا، جہاں ظالم کو اس کے ظلم کرنے پر سزا دی جائے اور مظلوم کو اس کے ظلم سہنے پر جزاء دی جائے گی اور دنیا میں اللہ تعالیٰ ظالم پر گرفت نہیں فرماتا بلکہ اس کو ڈھیل دیتا رہتا ہے تاکہ اس کو رجوع کرنے کا موقع ملے، لیکن جب وہ اپنے مظالم کا تدارک نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس پر سخت گرفت فرماتا ہے اور مظلوم کو دنیا میں جزاء نہیں دیتا تاکہ وہ اپنی مظلومیت پر مسلسل صبر کرتا رہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ اجر وثواب عطا فرمائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے افعال کی ایک حکمت ہے اور اس کے افعال کی بیشمار حکمتیں ہوتی ہیں اور ہم ناقص اور ناتمام علم والے اس علیم و حکیم کے علم اور حکمتوں کو مکمل طور سے کب جان سکتے ہیں۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 22
