أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَيَهۡدِيۡهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡۚ ۞
ترجمہ:
عنقریب ان کو ہدایات دے گا اور ان کے احوال کی اصلاح فرمائے گا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عنقریب ان کو ہدایات دے گا اور ان کے احوال کی اصلاح فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کر دے گا، جس کی ان کو پہنچان کرادی ہے اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا (محمد : ٧۔ ٥)
شہداء اور صالحین کے لئے آخرت میں نعمتیں اور دخول جنت میں آسانیاں
محمد : ٤ کے آخر میں فرمایا تھا : اور جو لوگ اللہ کے راستہ میں قتل کیے جاتے ہیں، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا اور اس آیت میں ان ہی کی فضیلت میں فرما رہا ہے : (اللہ) عنقریب ان کو ہدایت دے گا اور ان کے احوال کی اصلاح فرمائے گا، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہدایت کی ضرورت تو دنیا میں ہوتی ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوچکا ہے وہ ہدایت یافتہ تھا تب ہی تو اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں جنت کے راستہ کی طرف ہدایت دے گا یا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان اللہ کے راستہ میں کافروں سے جہاد کے لئے نکلے ان میں سے جو قتل کردئیے گئے ان کو تو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردے گا اور جو باقی رہ گئے، ان کو اللہ تعالیٰ زندگی کے تمام شعبوں میں ہدایت دے گا اور ان کے احوال کی اصلاح فرمائے گا، اس کے دو محمل ہیں : (١) ان کے مصائب اور ان کی پریشانیوں کو ان سے دور فرمائے گا (٢) ان سے جو گناہ سرزد ہوگئے ان کو معاف کردے گا۔ اور اگر اس کا تعلق شہداء سے ہو تو اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو منکر اور نکیر کے جواب میں ہدایت پر رکھے گا اور قبر میں ان کے لئے آسانیاں اور راحتیں مہیا فرما دے گا۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 5
