Site icon اردو محفل

وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِىۡ‌ ۚ وَهُمَا يَسۡتَغِيۡثٰنِ اللّٰهَ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ  ۖۚ فَيَقُوۡلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 17

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِىۡ‌ ۚ وَهُمَا يَسۡتَغِيۡثٰنِ اللّٰهَ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ  ۖۚ فَيَقُوۡلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا : تم پر اف ہے، تم مجھے اسی سے ڈراتے رہے ہو کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت صدیاں گزر چکی ہیں، اور وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیرے لئے ہلاکت ہو ! ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے تو وہ کہتا ہے : یہ تو صرف پہلے لوگوں کے بنائے ہوئے افسانے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا : تم پر اف ہے، تم مجھے اسی سے ڈراتے رہے ہو کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت صدیاں گزر چکی ہیں، اور وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیرے لئے ہلاکت ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے تو وہ کہتا ہے : یہ تو صرف پہلے لوگوں کے بنائے ہوئے افسانے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی حجت پوری ہوچکی ہے، یہ جنات اور انسانوں کے ان گروہوں میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں یہ لوگ بڑا نقصان اٹھانے والوں میں سے تھے اور ہر فریق کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں اور ان کو ان کے اعمال کا پورا صلہ دیا جائے گا اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا اور جس دن کفارکو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا :) تم اپنی لذیذ چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے ہو اور ان سے فائدہ اٹھا چکے ہو، پس آج تم کو ذلت والا عذاب دیا جائے گا کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور کیونکہ تم نافرمانی کرتے تھے (الاحقاف : ٢٠۔ ١٧)

الاحقاف : ١٧ کے شان نزول میں مختلف روایات

اس سے پہلے الاحقاف : ١٥ میں اس شخص کا ذکر فرمایا تھا جو اپنے ماں باپ کا فرماں بردار اور اطاعت گزار تھا اور اس آیت : ١٧ میں اس شخص کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے ماں باپ کا نافرمان اور سرکش تھا اور یہ آیت کس شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے ؟ اس میں دو قول ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اس سے مراد حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر ہیں، جب حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے کہا کہ تم ایمان لے آئو ! تو انہوں نے کہا : کیا آپ مجھے اس بات سے ڈراتے ہیں کہ میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائوں گا اور مجھے میدانِ حشر میں لایا جائے گا ؟ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٤١٩١)

(٢) حسن بصری نے کہا : یہ آیت ایک کافر اور فاجر کے متعلق نازل ہوئی ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور میدانِ محشر میں جمع کئے جانے کا منکر تھا، وہ اپنے مسلمان ماں باپ سے کہتا تھا کہ تم مجھے حشر سے ڈراتے ہو، حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی صدیاں گزر چکی ہیں اور کتنے لوگ مرچکے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں اٹھایا جائے گا اور اس کے ماں باپ اللہ سے فریاد کرتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ تیرے لئے ہلاکت اور بربادی ہو تو ایمان لے آ، تو اللہ کی وعید کی تصدیق کر اور یہ مان لے کہ تو مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو ان کی قبروں سے نکالے گا، ان کو میدانِ محشر میں جمع کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دی جائے۔ پھر وہ اللہ کا دشمن اپنے ماں باپ کی نصیحت کو رد کرتے ہوئے کہے گا کہ تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ مجھے مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا، یہ محض پہلے لوگوں کی کہی ہوئی جھوٹی اور من گھڑت باتیں ہیں، انہوں نے ان باتوں کو لکھ لیا تھا اور تم تک یہ لکھی ہوئی باتیں پہنچ گئیں اور تم نے ان کی تصدیق کردی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٤١٩٢۔ جز ٢٦ ص ٢٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی نے فرمایا کہ یہ قول صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کے متعلق نازل ہوئی ہے، کیونکہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر سچے مسلمان تھے اور یہ آیت کافر کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس کی دلیل بعد والی آیت میں ہے :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 17

Exit mobile version