روایت ہے حضرت حنش سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ دو بکرے قربانی دیتے تھے میں نے عرض کیا یہ کیا فرمایا مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۱؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل۔
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت علی تین بکرے قربانی کرتے تھے دوحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطابق آپ کی حیات شریف کے اور ایک اپنی طرف سے۔اس سےمعلوم ہوا کہ بعد وفات مرحوم کی طرف سے قربانی دیناجائزہے،ہاں اگر میت کی قربانی ہوتو اس کا سارا گوشت خیرات کردیا جائے اگر وارث اپنی جانب سے محض ثواب کے لیئے میت کی طرف سے قربانی کرے تو خودبھی کھائے اورفقراءو امیرسب کوکھلائے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی توتبرک ہے،مسلمان برکت کے لیئے کھائیں،آج بھی بعض خوش نصیب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتے ہیں،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔