أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بَلۡ ظَنَـنۡـتُمۡ اَنۡ لَّنۡ يَّـنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰٓى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا وَّزُيِّنَ ذٰ لِكَ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَظَنَنۡتُمۡ ظَنَّ السَّوۡءِ ۖۚ وَكُنۡـتُمۡ قَوۡمًا ۢ بُوۡرًا ۞
ترجمہ:
بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول اور مومنوں کبھی بھی اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ نہیں سکیں گے، اور تمہارے دلوں میں یہ بات خوش نما بنادی گئی تھی، تم نے بہت برا گمان کیا تھا، اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے
منافقوں کا برا گمان
الفتح : ١٢ میں فرمایا : بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول اور مؤمنین کبھی بھی اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ نہیں سکیں گے۔ منافق یہ کہہ ہے تھے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب موت کے منہ میں چلے گئے ہیں، وہ اب کبھی واپس نہ آسکیں گے اور یہ نفاق تمہارے دلوں میں راسخ ہوچکا تھا اور تمہرا یہ گمان بہت برا تھا کہ اللہ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔
اس آیت ” بورا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ہلاک ہونے والے۔ قتادہ نے کہا : فاسد لوگ جن سے کسی خیر کی توقو نہ ہو، یہ ” بائر “ کی جمع ہے جیسے ” حول حائل “ کی جمع ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 12
