روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا قربانی بقرعید کے بعد دو دن تک ہے۔(مالک)اور فرمایا کہ مجھے حضرت علی ابن ابی طالب سے اس کی مثل روایت پہنچی ۱؎
شرح
۱؎ یہ حدیث امام ابوحنیفہ،مالک و احمدکی قوی دلیل ہے کہ قربانی بارھویں کے آفتاب ڈوبنے تک ہے،امام شافعی کے ہاں تیرھویں کی عصر تک،یہ حدیث اگر چہ موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات عقل سے نہیں کہی جاسکتی،تیرھویں تاریخ کی کوئی روایت صحیح نہیں ملتی،اگر ہوبھی تو قابل عمل نہ ہوگی کیونکہ بارھویں تک قربانی کا یقین ہے اورتیرھویں میں شبہ۔