Site icon اردو محفل

لِّـتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۞- سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 9

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّـتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور تم اس کے رسول کی تعظیم اور توقیر کرو اور صبح اور شام اللہ کی تسبیح پڑھو

الفتح : ٩ میں فرمایا : تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور تم اس کے رسول کی تعظیم اور توقیر کرو اور صبح اور شام اللہ کی تسبیح پڑھو۔

اس آیت میں تعزیر کا لفظ ہے، تعزیر کا معنی تعظیم اور تکریم کرنا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے : آپ کی نصرت اور مدد کرنا، اور آپ کی مدافعت کرنا اور آپ پر ہونے والے حملوں کو روکنا، حد سے کم سز اکو تعزیر بھی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ جرم کے ارتکاب سے مانع ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس اور عکرمہ نے کہا : اس کا معنی ہے : آپ کے ساتھ مل کر تلوار سے قتال کرو۔

اور توقیر کا معنی ہے : آپ کی تعظیم اور تکریم کرو، اور ” تعزروہ “ اور ” توقروہ “ دونوں میں ضمیر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہے اور ’ تسبحوہ “ سے الگ جملہ شروع ہے، یعنی صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرو۔

ایک قول یہ ہے کہ تمام ضمریں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہیں، اس تقدیر پر ” تعزروہ وتوقروہ “ کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا صحیح طریقہ سے رب مانو اور یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہوسکتی ہے نہ اس کا کوئی شریک ہوسکتا ہے، یہ قول قشیری کا ہے اور پہلا قول ضحاک کا تھا۔

” تسبحوہ “ کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ہر عیب اور نقص سے اللہ تعالیٰ کے بری ہونے کو بیان کرو اور دوسرایہ کہ نماز پڑھو جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 9

Exit mobile version