Site icon اردو محفل

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىِ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞- سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 1

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىِ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول پر سبقت نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول پر سبقت نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بہت سننے والا، بےحد جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو (اپنے) نبی کی آواز پر بلند نہ کرو، اور نہ ان کے سامنے بلند آواز سے بولو، جیسے کہ تم ایک دوسرے سے بلند آواز سے بات کرتے ہو، ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔ بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، بیشک یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے پرکھ لیا ہے، ان ہی کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (الحجرات : ٣۔ ١)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول اور فعل پر اپنے قول اور فعل کو مقدم کرنے کی ممانعت

اس سے پہلی سورت میں حدیبیہ کی صلح کا ذکر ہے اور ” صحیح بخاری “ میں یہ گزر چکا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ کی شرائط پر صلح کرنے کا ارادہ کیا تو بعض صحابہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فعل سے دل برداشتہ ہوئے اور حضرت عمر (رض) نے آپ سے اس فیصلہ پر کافی بحث کی تو اس سے متصل سورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول پر سبقت نہ کرو۔

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے اس آیت کے متعلق پانچ قول ذکر کیے ہیں :

(١) قتادہ نے کہا : بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ کاش ! میرے متعلق یہ نازل ہوتا، کاش ! میرے متعلق وہ نازل ہوتا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کلام کرنے سے منع فرمایا۔

(٣) مجاہد نے کہا : اللہ اور رسول کے متعلق کوئی بات نہ کرو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان سے بتائے۔

(٤) حسن بصری نے کہا : کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز پڑھانے سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ دوبارہ قربانی کریں۔

(٥) زجاج نے کہا : جن عبادات کے اوقات مقرر ہیں ان کے وقت آنے سے پہلے ان عبادات کو ادا نہ کرو۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٣٢٦۔ ٣٢٥، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب اور احترام کی تعلیم دی گئی ہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بلند آواز کے ساتھ بولنے کی ممانعت

الحجرات : ٢ میں فرمایا : اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو (اپنے) نبی کو آواز پر بلند نہ کرو اور نہ ان کے سامنے بلند آواز سیبولو جیسے کہ تم ایک دوسرے سے بلند آواز سے بات کرتے ہو، ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔

حضرت اقرع بن حابس (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان کو ان کی قوم پر عامل بنا دیجئے۔ حضرت عمر نے کہا : یا رسول اللہ ! ان کو عامل نہ بنائیں، پھر ان دونوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بحث کی، حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا : تم صرف میری مخالفت کا ارادہ کرتے ہو، حضرت عمر نے کہا : تم صرف میری مخالفت کا ارادہ کرتے ہو، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو اپنے بی کی آواز پر بلند نہ کرو۔ اس کے بعد حضرت عمر بن الخطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بات کرتے تو ان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھیں، حتیٰ کہ ان سے سوال کیا جاتا کہ آپ نے کیا کہا ؟

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣٠٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٦٦، مسند احمد ج ٤ ص ٤)

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور توقیر کا حکم دیا گیا ہے کہ جب تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے حاضر ہو تو پست آواز سے بات کرو اور تمہاری آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ ہو ورنہ تمہارے نیک اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔

بلند آواز سے بولنے کو دو مرتبہ منع کرنے کے الگ الگ محمل

اس آیت میں دو مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بلند آواز سے گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک مرتبہ فرمایا : اپنی آوازوں کو (اپنے نبی) کی آواز پر بلند نہ کر، اور دوسری مرتبہ فرمایا : اور نہ ان کے سامنے بلند آواز سے بولو، جیسے کہ تم ایک دوسرے بلند آواز سے بات کرتے ہو۔ مفسرین نے کہا : دونوں مرتبہ بلند آواز کے ساتھ بات کرنے کی ممانعت کے الگ الگ محمل ہیں، پہلے جو فرمایا ہے کہ اپنی آوازوں کو (اپنے نبی) آواز پر بلند نہ کرو اس کا محمل یہ ہے کہ جب تم نبی و سے بات کر رہے ہو تو اپنی آواز کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے پست رکھو اور اپنی آواز کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز پر اونچی نہ ہونے دو ، اور دوسری بار جو فرمایا ہے کہ ان کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو، اس کا محمل یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوں اور تم ان کو کوئی خبر سنا رہے ہو تو اونچی آواز سے نہ بولو، یا اس کا محمل یہ ہے کہ جب تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرو تو عامیانہ انداز میں بات نہ کرو جیسے کہ تم ایک دوسرے بات کرتے ہو اور جب آپ کو مخاطب کرو تو آپ کے نام اور کنیت سے آپ کو مخاطب نہ کرو، مثلاً یوں مخاطب نہ کرو :”……“ بلکہ ” یا رسول اللہ “ یا ” با………کہو واضح رہے کہ اس میں ندائے یا محمد کی نفی نہیں ہے کیونکہ نداء اور چیز ہے اور خطاب اور چیز ہے (نداء میں ” یا محمد “ کہہ کر آپ کو اپنے حال کی طرف متوجہ کرنا ہے اور خطاب میں یا محمد کہہ کر آپ سے کلام کرنا ہے) ۔

مفسرین نے اس آیت سے اس پر بھی استدلال کیا ہے کہ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بلند آواز سے بولنا جائز نہیں ہے اسی طرح آپ کی قبر انور پر جب حاضری ہو تو وہاں بھی بلند آواز سے بولنا جائز نہیں ہے۔ علامہ قرطبی، علامہ ابو الحیان اندلی اور علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ اسی طرح عالم کے سامنے بھی بلند آواز سے بولنا جائز نہیں ہے، خصوصاً جب عالم قرآن اور حدیث کا درس دے رہا ہو۔

نیز مفسرین نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جو بلند آواز سے بولنا منع ہے اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اتنے زور سے نہ بولو جو آپ کے استخفاف اور آپ کی اہانت کا مظہر ہو، کیونکہ اس طرح بلند آواز سے بولنا کفر ہے اور اس آیت میں مؤمنین سے خطاب ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ تعظیم اور تکریم کے ساتھ معتدل آواز کی یہ بہ نست پست آواز میں آپ کے سامنے بولو یا آپ سے باتیں کرو۔

اپنی ضرورت اور آپ کی نعمت کے کلمات کو آپ کے سامنے بلند آواز پڑھنے کا جواز

مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ جن مواقع پر بلند آواز سے بولنا مطلوب ہوتا ہے وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے مثلا میدانِ جہاد میں دشمن کو للکارتے ہوئے، یا کسی معاند اور مخالف کو جواب دیتے ہوئے یا دشمن کو ڈراتے ہوئے ان تمام صورتوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بھی بلند آواز سے بولنا جائز ہے، کیونکہ ان صورتوں میں یہ متصور نہیں ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب اور احترام کے خلاف ہے، کیونکہ حدیث میں حضرت عباس (رض) سے روایت ہے :

جب جنگ حنین میں مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خچر کو کفار کی جانب دوڑا رہے تھے، حضرت عباس نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کی لگام تھام کر اس کو تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور حضرت ابو سفیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کی لگام پکرے ہوئے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عباس ! اصحابِ سمرہ (کیکر کے درخت والوں) کو آواز دو ، حضرت عباس بلند آواز شخص تھے، وہ کہتے ہیں : میں نے بہ آواز بلند پکارا : اصحابِ سمرہ کہاں ہیں ؟ حضرت عبا سنے کہا : بہ خدا وہ یہ آواز سنتے ہی اس طرح پلتے جس طرح گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے، وہ ”……“ کہتے ہوئے دوڑتے ہوئے آئے۔ الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٧٥)

اسی طرح حدیث میں حضرت عثمان بن عمر کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو مدینہ کے تمام مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور خادم راستوں میں بکھر گئے اور وہ زور زور سے پکار رہے تھے : یا محمد ! یا رسول اللہ ! یا محمد ! یا رسول اللہ !۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٠١٤)

اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بلند آواز سے اذان کہی جاتی تھی اور حضرت حسان بن ثابت (رض) آپ کی مدافعت میں بلند آواز سے اشعار پڑھتے تھے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آپ سے گفتگو کرتے وقت آپ کی آواز سے آواز بند نہ کی جائے اور جب کوئی شخص آپ کو بات سنائے اور آپ خاموشی سے سن رہے ہوں تو آواز بلند نہ کی جائے یا آپ سے اس طرح بلند آواز سے بات نہ کی جائے، جیسے لوگ ایک دوسرے سے عامیانہ انداز میں باتیں کرتے ہیں۔ تقریباً یہ تمام امور حسب ذیل مفسرین نے اپنی اپنی تصانیف میں بیان فرمائے ہیں۔

علامہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ (الکشاف ج ٤ ص ٣٥٥۔ ٣٥٣ ) ، علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ (الجامع الاحکا القرآن جز ١٦ ص ٢٧٩۔ ٢٧٦) ، علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ (روح المعانی جز ٢٦ ص ٢٠٦۔ ٢٠٤)

بعض مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاضر و ناظر بھی کہتے ہو اور مجالسِ میلاد میں بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام بھی پڑھتے ہو، جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بلند آواز سے بات کرنا جائز نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ حاضر و ناظر کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ ہر جگہ ہر وقت موجود ہیں، یہ صرف اللہ عزوجل کی شان ہے، ملکہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اپنی قہر انور میں موجود ہیں اور کائنات آپ کے سامنے ہے اور آپ اس کو دیکھ رہے اور جب چاہیں جہاں چاہیں تشریف لے جاسکتے ہیں، اس کی تائید ان احادیث میں ہے :

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک عزوجل نے تام روئے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے تمام مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٨٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٢٥٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٧٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٥٢ )

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے میرے لئے دنیا اٹھا کر رکھ دی اور میں دنیا کو اور جو کچھ قیامت تک دنیا میں ہونے والا ہے اس کو دیکھ رہا ہوں، جیسا کہ میں اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ (حلیتہ الاولیاء ج ٦ ص ١٠١، حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کو طبرانی سے دریافت کیا ہے اور اس کے رجال کے ضعف کے باوجود توثیق کی گئی ہے۔ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٨٧، بیروت)

باقی رہا آپ کے سامنے بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام پڑھنا، سو ہم متعدد مفسرین کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں کہ آپ کے سامنے مطلقاً بلند آواز سے بولنا منع نہیں ہے، آپ کی تعظیم اور توقیر کے کلمات کو بلند آواز سے پڑھنا جائز ہے، جیسا کہ ہجرت کے موقع پر انصار کے مرد، عورتیں اور بچے آپ کا استقبال کرتے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگا رہے تھے : ” یا محمد ! ہا رسول اللہ ! “ یا محمد ! یا رسول اللہ ! اور آپ کے سامنے بلند آواز کے ساتھ اذان دی جاتی تھی اور حضرت حسان (رض) آپ کی مدح میں بلند آواز کے ساتھ اشعار پڑھتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 1

Exit mobile version