أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذۡ يَتَلَقَّى الۡمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ ۞
ترجمہ:
جب (اس کے ہر قول اور فعل کو) دو فرشتے حاصل کرلیتے ہیں جو اس کی دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں
کراماً کاتبین کا صحیفہ اعمال میں لکھنا
قٓ:17 میں فرمایا : جب (اس کے ہر قول اور ہر فعل کو) دو فرشتے حاصل کرلیتے ہیں۔ الایۃ
یعنی ہم اس وقت بھی اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، جب دو فرشتے جو اس پر مسلط کیے گئے ہیں، وہ اس کے ہر قول اور ہر فعل کو لکھ لیتے ہیں، یہ دو فرشتے اس کے اقوال اور افعال پر شاہد بنائے گئے ہیں، ایک فرشتہ انسان کی دائیں جانب ہوتا ہے اور اس کی نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ اس کی بائیں جانب ہوتا ہے اور اس کی برائیاں لکھتا ہے حتیٰ کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے صحیفہء اعمال کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے :
حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیکیاں لکھنے والا فرشتہ انسان کی دائیں جانب ہوتا ہے پس جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے تو دائیں جانب والا فرشتہ اس کو دس گنا کر کے لکھ لیتا ہے اور جب انسان کوئی برائی کرتا ہے تو دائیں جانب والا فرشتہ بائیں جانب والے سے کہتا ہے : اس کو دس گھنٹے تک مہلت دو شاید یہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے یا توبہ کرلے۔ (حلیۃ الاولیاء ج 6 ص 124، الوسیط ج 4 ص 165، شعب الایمان رقم الحدیث :7051، المعجم الکبیر رقم الحدیث :7765)
حافظ الہیشمی نے کہا : اس حدیث کی سند میں ایک متروک راوی ہے وہ سعید بن سنان ہے۔ (مجمع الزوائد ج 10 ص 207-208) لیکن اسی کے قریب حدیث صحیح میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا، جب میرا بندہ گناہ کرنا چاہے تو (اس کو) فوراً نہ لکھو، پھر اگر وہ گناہ کرلے تو اس کا ایک گناہ لکھو، اور جب وہ نیکی کرنا چاہے تو اس کی ایک نیکی لکھ دو اور جب وہ نیکی کا عمل کرلے تو دس نیکیاں لکھ دو ، ایک اور روایت میں دس سے سات سو نیکیاں لکھنے کا ذکر ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 128، الرقم المسلسل : 327-328، سنن ترمذی رقم الحدیث :3073)
امام الحسین بن مسعود بغوی متوفی 516 ھ لکھتے ہیں :
حسن بصری نے کہا : فرشتے دو حالتوں میں انسان سے اجتناب کرتے ہیں جب وہ قضاء حاجت کر رہا ہو اور جب وہ اپنی بیوی سے جماع کر رہا ہو۔ عکرمہ نے کہا : وہ اس کے اسی کام کو لکھتے ہیں جس پر ثواب ہو یا عذاب ہو۔
(معالم التنزیل ج 4 ص 272، داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1420 ھ)
علامہ آلوسی حنفی نے بھی یہی لکھا ہے کہ فرشتے قضاء حاجت اور جماع کے وقت انسان سے مجتنب رہتے ہیں۔(روح المعانی جز 26 ص 273)
مرض اور سفر کی وجہ سے بندہ جو نیکیاں نہ کرسکے وہ بھی لکھی جاتی ہیں
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جو شخص بھی اپنے جسم کے کسی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اس کے اعمال کے) محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے، میرا یہ بندہ اپنی صحت کی حالت میں جو (نیک) عمل کرتا تھا اس کے اس عمل کو اس وقت تک لکھتے رہو جب تک وہ میری زنجیر میں بندھا ہوا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :10804)
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کراماً کاتبین سے فرماتا ہے : میرے بندے کے اس (نیک) عمل کو لکھتے رہو جو وہ صحت کے ایام میں کرتا تھا حتیٰ کہ میں اس کو اٹھا لوں یا تندرست کر دوں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : 10812)
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیمار ہوگیا جس نے سفر کیا وہ صحت اور اقامت کے ایام میں جو نیک عمل کرتا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے ان نیک اعمال کو لکھتا رہتا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :10805)
القرآن – سورۃ نمبر 50 ق آیت نمبر 17
