علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی 817 ھ لکھتے ہیں :
” وضن “ کا معنی ہے : کسی چیز کو دوہرا تہرا بنانا، چمڑے پر دھاگوں سے کسی چیز کو بنانا، زرہ کو مضبوطی سے بننا، کسی چیز کو جواہر سے مرضع کرنا۔ (القاموس المحیط ص 1238، مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ٤٢٤١ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : سونے کے تاروں سے بنی ہوئی کو چیز ‘ موتی اور یاقوت سے بنی ہوئی جالی ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے ‘ اس کا معنی ہے : ” مصفوفۃ “ یعنی وہ تخت قطاردر قطار ہوں گے۔
تفاسیر میں ہے کہ وہ تخت سونے کے سرکنڈوں سے بنے ہوں گے اور ان میں موتی اور یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔