عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍۙ- سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 15
sulemansubhani نے Friday، 8 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍۙ ۞
ترجمہ:
وہ (زر اور جواہر سے) مرضع تختوں پر ہوں گے
” موضونہ “ کا معنی “
الواقعہ : 15 میں فرمایا : وہ (زرو و جواہر سے) مرصع تختوں پر ہوں گے۔
اس آیت میں ” موضونۃ “ کا لفظ ہے، علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اس کا مادہ ” الوضن “ ہے، اس کا معنی ہے : زرہ بننا، اور ہر مضبوط بناوٹ کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(المفردات ج ٢ ص 682، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ٥١٤١ ه)
علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی 817 ھ لکھتے ہیں :
” وضن “ کا معنی ہے : کسی چیز کو دوہرا تہرا بنانا، چمڑے پر دھاگوں سے کسی چیز کو بنانا، زرہ کو مضبوطی سے بننا، کسی چیز کو جواہر سے مرضع کرنا۔ (القاموس المحیط ص 1238، مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ٤٢٤١ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : سونے کے تاروں سے بنی ہوئی کو چیز ‘ موتی اور یاقوت سے بنی ہوئی جالی ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے ‘ اس کا معنی ہے : ” مصفوفۃ “ یعنی وہ تخت قطاردر قطار ہوں گے۔
تفاسیر میں ہے کہ وہ تخت سونے کے سرکنڈوں سے بنے ہوں گے اور ان میں موتی اور یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 15