Site icon اردو محفل

لَوۡ نَشَآءُ لَجَـعَلۡنٰهُ حُطَامًا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُوۡنَ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 65

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَوۡ نَشَآءُ لَجَـعَلۡنٰهُ حُطَامًا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ

” حطام ‘ تفکھون کے معانی

الواقعہ 67۔ 65 میں فرمایا : اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔ بلکہ ہم تو محروم ہوگئے۔

الواقعہ : 65 میں ” حطاما “ کا لفظ ہے ‘ اس کا معنی ہے : گھاس سوکھ کر چوراچورا ہوجائے اور وہ کسی فائدہ کی نہ رہے ‘ نیز اس آیت میں ” تفکھون “ کا لفظ ہے ‘ ” تفکھون “ کا معنی ہے ‘ تم تعجب کرتے رہ جاؤیا اس کا معنی ہے : تم ندامت سے افسوس کرتے رہ جاؤ۔ (مختار الصحاح ص ٠٠٣)

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 65

Exit mobile version