اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ
” حطام ‘ تفکھون کے معانی
الواقعہ 67۔ 65 میں فرمایا : اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔ بلکہ ہم تو محروم ہوگئے۔
الواقعہ : 65 میں ” حطاما “ کا لفظ ہے ‘ اس کا معنی ہے : گھاس سوکھ کر چوراچورا ہوجائے اور وہ کسی فائدہ کی نہ رہے ‘ نیز اس آیت میں ” تفکھون “ کا لفظ ہے ‘ ” تفکھون “ کا معنی ہے ‘ تم تعجب کرتے رہ جاؤیا اس کا معنی ہے : تم ندامت سے افسوس کرتے رہ جاؤ۔ (مختار الصحاح ص ٠٠٣)