الواقعہ : 76 میں فرمایا : اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت عظیم قسم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم جانو ( یا سمجھو) تو یہ بہت عظیم قسم ہے ‘ اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ تم کیا سمجھو یا کیا جانو ‘ جب کسی چیز میں عموم کو ظاہر کرنا ہوتا ہے تو مفعول کو ذکر نہیں کیا جاتا ‘ جیسا کی حدیث میں ہے : انماانا قاسم واللہ یعطی۔ میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطا کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٠١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٧٣)
میں کیا تقسیم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کیا دیتا ہے ؟ اس کا ذکر نہیں فرمایا ‘ یعنی سب کچھ اللہ دیتا ہے اور سب کچھ میں تقسیم کرنے والا ہوں۔ اس لیے اس آیت کا بھی یہ معنی ہے کہ تمہیں کسی چیز کا پتہ نہیں ‘ کیونکہ اگر تمہیں کسی چیز کا علم ہوتا تو تمہیں اس قسم کے عظیم ہونے کا بھی علم ہوتا اور یہ آیت ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : صم بکم عمی۔ (البقرہ : ٨١) یہ بہرے ‘ گونگے ‘ اندھے ہیں۔
اولیک کالانعام بل ھم اضل ط۔ (الاعراف ؛ ٩٧١) یہ حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ ہیں۔
اس لیے یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ ان کو بہت سی چیزوں کا علم تھا ‘ پھر کیسے فرمایا : ان کو کسی چیز کا علم نہیں ‘ کیونکہ علم سے مقصود اللہ تعالیٰ ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کا علم ہے اور جب انہوں نے علم حاصل نہیں کیا تو گویا ان کو کسی چیز کا علم نہیں۔