Site icon اردو محفل

وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌۙ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 76

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌۙ ۞

ترجمہ:

اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت عظیم قسم ہے

کفارِ مکہ کے علم کی نفی کی توجیہ

الواقعہ : 76 میں فرمایا : اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت عظیم قسم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم جانو ( یا سمجھو) تو یہ بہت عظیم قسم ہے ‘ اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ تم کیا سمجھو یا کیا جانو ‘ جب کسی چیز میں عموم کو ظاہر کرنا ہوتا ہے تو مفعول کو ذکر نہیں کیا جاتا ‘ جیسا کی حدیث میں ہے : انماانا قاسم واللہ یعطی۔ میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطا کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٠١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٧٣)

میں کیا تقسیم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کیا دیتا ہے ؟ اس کا ذکر نہیں فرمایا ‘ یعنی سب کچھ اللہ دیتا ہے اور سب کچھ میں تقسیم کرنے والا ہوں۔ اس لیے اس آیت کا بھی یہ معنی ہے کہ تمہیں کسی چیز کا پتہ نہیں ‘ کیونکہ اگر تمہیں کسی چیز کا علم ہوتا تو تمہیں اس قسم کے عظیم ہونے کا بھی علم ہوتا اور یہ آیت ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : صم بکم عمی۔ (البقرہ : ٨١) یہ بہرے ‘ گونگے ‘ اندھے ہیں۔

اولیک کالانعام بل ھم اضل ط۔ (الاعراف ؛ ٩٧١) یہ حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ ہیں۔

اس لیے یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ ان کو بہت سی چیزوں کا علم تھا ‘ پھر کیسے فرمایا : ان کو کسی چیز کا علم نہیں ‘ کیونکہ علم سے مقصود اللہ تعالیٰ ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کا علم ہے اور جب انہوں نے علم حاصل نہیں کیا تو گویا ان کو کسی چیز کا علم نہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 76

Exit mobile version