اور (یہ اموال) ان لوگوں کے لئے ہیں جو دار ہجرت میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے اور وہ اپنے دلوں میں اس چیز کی کوئی طلب نہیں پاتے جو ان مہاجروں کو دی گئی ہے اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں خواہ انہیں خود شدید ضرورت ہو اور جن کو ان کے نفسوں کے بخل سے بچایا گیا سو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
اس کی توجیہ کہ انصار نے مہاجرین سے پہلے ایمان کی جگہ بنا لی
الحشر : ٩ میں فرمایا : اور (یہ اموال) ان لوگوں کے لئے ہیں جو دار ہجرت میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہیں۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جن لوگوں نے مہاجرین کے مدینہ میں آنے سے مدینہ کو اپنا وطن بنایا اور مدینہ میں اپنا گھر بنایا وہ انصار ہیں، اور یہ جو فرمایا ہے : وہ مہاجرین سے پہلے ایمان میں جگہ بنا چکے ہیں اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ مہاجرین سے پہلے ایمان لا چکے ہیں کیونکہ انصار، مہاجرین کے بعد ایمان لائے تھے، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مہاجرین کے آنے سے پہلے مدینہ میں ایمان کے گھر بنا چکے تھے یعنی ایمان والوں کے لئے گھر بنا چکے تھے یا اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں مدینہ کے گھروں کو لازم کرلیا تھا اور ایمان کو لازم کرلیا تھا۔
اس آیت میں ” تبو و “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” تبوئ “ ہے، اس کا معنی ہے : انہوں نے ٹھکانا بنا لیا، انہوں نے جگہ بنا لی۔
اموات بنو نضیر صرف مہاجرین کو عطا فرمانا انصار کو
اس کے بعد فرمایا : اور وہ اپنے دلوں میں اس چیز کی کوئی طلب نہیں پاتے جو ان مہاجروں کو دی گئی ہے۔
علاہ ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کے دن انصار سے فرمایا : اگر تم چاہو تو تم اپنے اموال اور اپنے گھروں کو مہاجرین کے لئے تقسیم کردو اور تم بنو نضیر کے مال غنیمت میں شریک ہو جائو اور اگر تم چاہو تو تمہارے اموال اور تمہارے گھر تمہارے ہی لئے رہیں اور اس مال غنیمت کو مت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا، انصار نے کہا : بلکہ ہم اپنے مالوں کو اور اپنے گھروں کو مہاجرین کے لئے تقسیم کریں گے اور ہم اس مال غنیمت میں ان کے شریک نہیں ہوں گے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (الکشف وا لبیان ج ٩ ص 280 داراحیائ التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی 450 ھ لکھتے ہیں :
مجاہد اور مقاتل بن حیان نے کہا کہ بنو نضیر سے جو مال فئے حاصل ہوا تھا وہ انصار نے مہاجرین کے لئے چھوڑ دیا اور خود اس میں سے کچھ نہیں لیا۔
روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر سے حاصل شدہ مال فئے اور بنو قریظہ سے حاصل شدہ مال غنیمت مہاجرین کو دے دیا اور فرمایا : اس کے عوض مہاجرین انصار سے لئے ہوئے اموال انہیں واپس کردیں، پس انصار نے کہا : نہیں ہم اپنے اموال واپس نہیں لیں گے اور ہم خوشی سے ان کو یہ اموال فئے اور اموال غنیمت دیتے ہیں۔ (النکت و العیون ج ٥ ص 506 دارالکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ ابوالفرج عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :
مفسرین نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا کہ بنو نضیر کے اموال کے پانچ حصے کئے جائیں (چار حصے مسلمانوں میں تقسیم کئے جائیں اور ایک حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا جائے، جیسا کہ مال غنیمت میں ہوتا ہے) تب یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ بیان فرمایا کہ بنو نضیر کے اموال فئے ہیں وہ مسلمانوں کی جنگ کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہئے اور ان اموال پر خصوصیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیت ہے، سو آپ ان اموال میں جو چاہیں ریں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اموال بنو نضیر کو مہاجرین میں تقسیم کردیا اور انصار میں سے کسی کو کچھ نہیں دیا، سوائے تین شخصوں کے جن کو مال کی بہت ضرور تھی، حضرت ابودجانہ، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت حارث بن الصمۃ (رض) ۔ (زاد المسیرج ٨ ص 210 مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)
ایثار کا لغوی اور اصطلاحی معنی
نیز اس آیت میں فرمایا : اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، واہ انہیں شدید ضرورت ہو۔
اس آیت میں :” ویوثرون “ اس کا مصدر ایثار ہے، علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
اثر کے لفظ اور ایثار کے لئے استعارہ کیا جاتا ہے، صحیح حدیث میں ہے :” سیکون بعدی ائرۃ “ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3603) یعنی تم میں سے بعض کو بعض پر ترجیح دیں گے۔ اور ” استئثار “ کا معنی ہے : کسی شخص کا کسی چیز کے ساتھ منفرد ہونا۔ (المفردات ج ١ ص 10-11، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)
علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :
ایثار کا معنی ہے : کسی دوسرے شخص کو دنیاوی چیزوں میں اپنے اوپر ترجیح دینا، یہ وصف یقین کی قوت، محبت کی شدت اور مشقت پر صبر کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 18 ص 25 دارالفکر، بیروت، 1415 ھ)
ایثار کے متعلق احادیث اور آثار
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری کے پاس رات کو ایک مہمان آیا، اس کے پاس صرف اتنا طعام تھا کہ وہ اور اس کی بیوی بچے کھا لیں، اس نے اپنی بیوی سے کہا، بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو اور گھر میں جو کچھ کھانا ہے وہ مہمان کے آگے لا کر رکھ دو ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :” ویوء ثرون علی انفسہم “ (الحشر : ٩) (صحیح البخاری رقم الحدیث :4889-3798 صحیح مسلم رقم الحدیث :2054، سنن ترمذی رقم الحدیث :3304 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :5286 سنن بیہقی ج ٤ ص 185)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری کے پاس رات کو ایک مہمان آیا، اس کے پاس صرف اتنا طعام تھا کہ وہ اور اس کی بیوی بچے کھا لیں، اس نے اپنی بیوی سے کہا : بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو اور گھر میں جو کچھ کھانا ہے وہ مہمان کے آگے لا کر رکھ دو ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :” ویوثرون علی انفسم “ (الحشر : ٩) (صحیح البخاری رقم الحدیث :4889-3798 صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٥٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٠٤ صحیح ابن حبان رقم الحدیث :5286 سنن بیہقی ج ٤ ص 185)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا : میں بھوکا ہوں، آپ نے اپنی کسی زوجہ کے پاس پیغام بھیجا، انہوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں، پھر آپنے دوسری زوجہ کے پاس پیغام بھیجا، انہوں نے بھی اسی طرح کہا حتیٰ کہ سب نے اسی طرح کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں، پھر آپ نے فرمایا : آج رات کون اس شخص کو مہمان بنائے گا ؟ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اس کی ضیافت کروں گا، پھر وہ اس کو اپنے گھر لے گیا، پھر اس نے اپنی بیوی سے پوچھا : تمہارے پاس کھلانے کے لئے کچھ ہے ؟ اس نے کہا : صرف میرے بچوں کا کھانا ہے، اس نے کہا : ان کو بہلا کر سلا دو اور جب مہمان آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا کہ ہم بھی کھا رہے ہیں، پھر سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھالیا، جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے جس طرح رات کو اپنے مہمان کی ضیافت کی ہے اس سے اللہ بہت خوش ہوا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2054) امام بیہقی نے لکھا ہے : یہ حضرت ابو طلحہ اور اس کی بیوی کا واقعہ ہے۔ (الجامع لشعب الایمان ج ٥ ص 140)
علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص کے پاس بکری کی سری ہدیے میں آئی، اس نے سوچا کہ میرا فلاں (دینی) بھائی عیال دار ہے اور وہ مجھ سے زیادہ اس سری کا محتاج ہے، اس نے وہ سری اس کے پاس بھیج دی، اس نے وہ سری کسی اور ضرورت مند صحابی کے پاس بھیج دی اور اس نے کسی اور ضرورتمند کے پاس، یوں وہ سات گھر والوں میں سے گھومتی ہوئی پھر پہلے صحابی کے پاس پہنچ گئی۔ (زاد المسیرج ٨ ص 214 متکب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)
امام حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ امام بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ اور امام ابو الحسن واحدی متوفی ٤٦٩ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص 484، الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : ٣٢٠٤، اسباب النزول رقم الحدیث :810)
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیمار ہوگئے، ان کو یہ خواہش ہوئی کہ جب انار کا پہلی بار پھل آئے تو وہ انار کھائیں، ان کی بیوی صفیہ نے ایک درہم کا انار منگایا، جب انار آگیا تو ایک سائل نے اس کا سوال کیا، حضرت ابن عمر نے فرمایا : یہ انار اس کو دے دو ، پھر ان کی بیوی نے ایک اور درہم کا انگار منگوایا، پھر وہی سائل آگیا اور اس نے اسی کا سوال کیا، حضرت ابن عمر نے فرمایا : یہ انار بھی اس کو دے دو ، پھر ان کی بیوی نے تیسرا انار منگوایا۔
(الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث :3206، کتاب الزہد لابن المبارک رقم الحدیث : ٧٨٢ حلیۃ الاولیائ، ج ١ ص 297 کتاب الزہد لاحمد بن حنبل رقم الحدیث :190 سنن بیہقی ج ٤ ص 185 اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں)
امام مالک کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ روزہ سے تھیں کہ ایک مسکین نے سوال کیا اور اس وقت گھر میں صرف ایک روٹی تھی، آپ نے اپنی خادمہ سے فرمایا : اس کو وہ روٹی سے دے دو ، خادمہ نے کہا : پھر آپ کے افطار کے لئے کوئی چیز نہیں رہے گی، آپ نے فرمایا : تم یہ روٹی اس کو دے دو ، ایک گھر سے ہمارے ہاں ہدیہ آتا تھا، شام کو اس کے ہاں سے ایک بکری اور اس کی دستی آگئی، حضرت عائشہ نے اس خادم سے فرمایا : لو اس سے کھائو یہ تمہاری روٹی سے بہتر ہے۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث :1929 ج ٢ ص 473 دارالمعرفتہ، بیروت، الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث :3207)
حضرت بریرہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ حضرت ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس تھیں، ان کے پاس ایک سائل آیا اور ان کے پاس اس وقت صرف ایک روٹی تھی، حضرت ام سلمہ نے فرمایا : اے بریرہ ! وہ روٹی اس سائل کو دے دو ، حضرت بریرہ نے توقف کیا، اس سائل نے پھر سوال کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا : اے بریرہ ! وہ روٹی اس سائل کو دے دو ، شام کو ہم نے پانی سے روزہ افطار کیا، تھوڑی دیر بعد کسی نے دروازے پر دستک دی، آپ نے فرمایا : اے بریرہ ! دیکھو کون ہے تو ایک شخص ایک خوان میں بھنی ہوئی بکری اور روٹیاں لے کر آیا تھا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا : الحمد للہ ! اللہ عزوجل نے انشاء اللہ ہمارے لئے اجر رکھا ہے، یہ اس کے علاوہ ہے۔ ان دنوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل میں ایک ماہ سے دوسرے ماہ تک آگ نہیں جلتی تھی۔ (الجامع لشعب الایمان ج ٥ ص 145-146 رقم الحدیث :3215 اس حدیث کی سند ضعیف ہے)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، اس نے سوال کیا، میرے پاس ایک کھجور کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی، میں نے وہی کھھجور اس کو دے دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور اپنی بیٹیوں کو کھلا دیئے اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا، پھر وہ چلی گئی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، آپ نے فرمایا : جو ان بیٹیوں کی پرورش میں مبتلا ہوا تو یہ بیٹیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے حجاب بن جائیں گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1418 صحیح مسلم رقم الحدیث :2629 سنن ترمذی رقم الحدیث :1915)
امام مسجدد اپنی ” مسند “ میں، امام ابن ابی الدنیا ” کتاب فری الضیف “ اور امام ابن المنذر ابوالمتوکل (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان تین دن سے روزہ دار تھا اور اس کے پاس افطار کے لئے کوئی چیز نہیں تھی حتیٰ کہ حضرت ثابت بن قیس انصاری (رض) سے اس کی ملاقات ہوئی، انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا : آج شام کو میں ایک مہمان لے کر آئوں گا، جب تم کھانا رکھو تو تم چراغ کے پاس اس طرح کھڑی ہوجانا گویا تم اس کو ٹھیک کر رہی ہو، پھر اس کو بجھا دینا پھر تم کھانے کے پاس اس طرح ہاتھ بڑھانا گویا کہ تم کھانا کھا رہی ہو، پھر حضرت ثابت اس روزہ دار مہمان کو لے کر آئے، شام کو ان کے سامنے کھانا رکھا اور چراغ کو ٹھیک کرنے کے بہانے بجھا دیا اور گھر والے کھان کے سامنے اس طرح ہاتھ بڑھاتے رہے گویا کہ کھانا کھا رہے ہیں اور مہمان نے سیر ہو کر کھانا کھالیا، جب صبح کو حضرت ثابت (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا : اے ثابت ! گزشتہ رات تم نے اپنے مہمان کی جس طرح ضیافت کی اس سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا اور پھر یہ آیت نازل ہوئی :” ویوثرون علی انفسہم ولوکان بہم خصاصۃ “ (الحشر : ٩) ۔
(الدرالمنثور ج ٨ ص 102 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
ہو سکتا ہے کہ اس قسم کے متعدد واقعات اس آیت کے نزول کا سبب ہوں، کیونکہ ایک آیت کے نزول کے متعدد اسباب ہوتے ہیں۔
حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاشیہ والی بنی ہوئی ایک چادر لے کر آئی، اس عورت نے کہا، میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہنائوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے وہ چادر لے لی اور آپ کو اس وقت اس چادر کی ضرورت بھی تھی، آپ وہ چادر پہن کر ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کی اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! یہ بہت خوبصورت چادر ہے، آپ یہ مجھے دے دیجیے، حاضرین نے کہا : تم نے اچھا نہیں کیا، اس چادر کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہن لیا تھا اور آں حالیکہ آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی، پھر بھی تم نے اس کو مانگ لیا اور تم کو معلوم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کا سوال رد نہیں فرماتے، اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے پہننے کے لئے اس چادر کا سوال نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس چادر کا اس لئے سوال کیا تھا کہ یہ میرا کفن ہوجائے، سہل نے کہا : پھر وہ چادر اس شخص کا کفن ہوگئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1277)
حافظ جلال الدین سیوطی، امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم کے حوالوں سے لکھتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لڑکا آیا اور اس نے کہا : میری ماں نے آپ سے فلاں فلاں چیز کا سوال کیا ہے، آپ نے فرمایا : آج ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اس نے کہا : میری ماں کہتی ہے کہ آپ یہ قمیض دے دیجیے، آپ نے وہ قمیض اتار کر اس کو دے دی اور آپ بغیر قمیض کے افسوس سے بیٹھے رہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (الدرالمنثور ج ٥ ص 274 مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٤ ھ)
لیکن ” تفسیر ابن جریر “ اور ” تفسیر امام ابن ابی حاتم “ میں یہ حدیث نہیں ہے، علامہ قرطبی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور قرطبی کے مخرج نے ” سنن کبریٓ، مجمع الزوائد “ اور ” مصنف عبدالرزاق “ کا حوالہ دیا ہے لیکن ان تینوں کتابوں میں یہ حدیثن ہیں ہے، البتہ اس مضمون کی ایک اور حدیث مستند کتابوں میں موجود ہے۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ ایثار نفس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ انصار کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہوں نے مہاجرین کو اپنے مکانوں میں جگہ دی، اور اپنے نفسوں پر ایثار کرتے ہوئے ان کو اپنے اموال دیئے خواہ ان کو خود ان مکانوں اور اموال کی ضرورت کیوں نہ ہو۔ (جامع البیان جز 28 ص 55 مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی 450 ھ لکھتے ہیں اس کی تفسیر میں دو روایتیں ہیں :
(١) مجاہد اور ابن حیان نے بیان کیا کہ انصار نے مال فے (کفار کا چھوڑا ہوا مال) اور مال غنیمت (میدان جنگ میں کافر سے حاصل کیا ہوا مال) میں اپنے اوپر مہاجرین کو ترجیح دی حتیٰ کہ وہ مال مہاجرین کو دیا گیا اور ان کو نہیں دیا گیا۔
روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو النضیر کا مال فے مہاجرین میں تقسیم کیا، اور بنو قریظہ سے حاصل شدہ مال مہاجرین کو دے کر فرمایا انصار نے اپنے اموال جو تم کو دیئے تھے تم ان کے اموال واپس کردو، انصار نے کہا نہیں ہم ان کو ان اموال پر برقرار رکھیں گے اور اموال فے میں ان کو اپنے اوپر ترجیح دیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی۔
(٢) ابن زید بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے فرمایا : تمہارے بھائی (مکہ میں) اپنے اموال اور اولاد کو چھوڑ کر تمہارے پاس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم اپنے اموال میں ان کو شریک کرلیں گے، آپ نے فرمایا : اس کے علاوہ کچھ اور ! انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان لوگوں کو کھیتی باڑی نہیں آتی، تم ان کی جگہ کام کرو اور پیدا شدہ کھجوریں آپس میں تقسیم کرلینا، یعنی بنو نضیر سے حاصل شدہ کھجوروں کو، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ٹھیک ہے۔ (النکت و العیون ج ٥ ص 506 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
صرف اصحاب صبر کے لئے تنگی میں اپنے اوپر ایثار کی اجازت ہے، ہر شخص کے لئے نہیں
علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی المتوفی 543 ھ لکھتے ہیں :
ایثار یہ ہے کہ دنیاوی چیزوں میں آخرت کی طرف رغبت کرتے ہوئے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دی جائے اور یہ وصف نفس کی قوت، شدت محبت اور مشقت پر صبر کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور ایثار کرنے والوں کے احوال کے اختلاف سے ایثار مختلف ہوتا ہے، جیسا کہ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے ان کا سارا مال قبول فرما لیا اور حضرت عمر (رض) سے ان کا نصف مال قبول کیا اور حضرت ابولبابہ اور حضرت کعب (رض) سے تہائی مال قبول کیا کیونکہ ان کا درجہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے کم تھا اور اس میں کوئی خیر نہیں ہے کہ ایک شخص پہلے صدقہ کرے پھر نادم ہو اور ندامت کی وجہ سے اس کا اجر ضائع ہوجائے۔ (احکام القرآن جز ٤ ص 220 دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1408 ھ)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی المتوفی 668 ھ لکھتے ہیں ،
اگر یہ کہا جائے کہ احادیث صحیحہ میں اس سے منع کیا گیا ہے کہ انسان اپنا تمام مال صدقہ کر دے، اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اس شخص کے لئے منع ہے جو فقر پر صبر نہ کرسکتا ہو اور اس کو یہ خطرہ ہو کہ وہ اپنا تمام مال صدقہ کرنے کے بعد بھیک مانگنا شروع کر دے گا، لیکن جن انصار کے ایثار کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تعریف اور تحسین کی ہے ان کی یہ صفت نہ تھی، ان کے لئے مال رکھنے کے بجائے دوسروں کو دینا افضل تھا اور مال رکھنا ان کے لئے افضل ہے جو صبر نہیں کرسکتے اور وہ بھیک مانگنے کے در پے ہوجائیں گے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 18 ص 26، دارالفکر، بیروت، 1415 ھ)
حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی المتوفی 774 ھ لکھتے ہیں ،
صحیح حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے تنگ دست ضرورت مند کا صدقہ سب سے افضل ہے (سنن ابو دائود رقم الحدیث :1677) اور یہ مقام سب سے بلند ہے، کیونکہ ان صحابہ نے اس چیز کو خرچ کیا جس کی ان کو خود سخت ضرورت تھی اور یہی مقام حضرت صدیق اکبر (رض) کا ہے جنہوں نے اپنے تمام مال کا صدقہ کردیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : آپ نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا باقی رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے ان کے لئے اللہ اور رسول کو باقی رکھا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٦٧٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٥) (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص 372 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1419 ھ)
قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی المالکی المتوفی 543 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کا تمام مال قبول فرما لیا، اور حضرت عمر (رض) کا نصف مال قبول فرما لیا، اور جب حضرت ابولبابہ (رض) نے اپنے تمام مال کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تو ان سے فرمایا : تمہارے لئے تہائی مال کو صدقہ کرنا کافی ہے، آپ نے ہر ایک سے اتنا مال لیا جتنے مال کی سخاوت کو اس کا دل برداشت کرسکتا تھا اور آپ کو علم تھا کہ حضرت ابولبابہ اپنے تمام مال کے خرچ ہونے پر صبر نہیں کرسکیں گے جس طرح حضرت ابوبکر اپنے تمام مال کے راہ خدا میں صرف ہونے پر صبر کرلیں گے اور جس طرح حضرت عمر اپنے نصف مال کے خمچ ہونے پر صبر کرلیں گے، اس لئے آپ نے حضرت ابولبابہ کو صرف تہائی مال کے صدقہ کرنے کی اجازت دی۔ (عارضتہ الاحوذی ج ١٣ ص ١١٩ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ)
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ لکھتے ہیں ،
جس شخص نے اس حال میں صدقہ کیا کہ وہ خود ضرورت مند تھا، یا اس کے اہل و عیال ضرورت مند تھے، یا اس پر قرض تھا تو صدقہ کرنے، غلام کو آزاد کرنے یا ہبہ کرنے کی بہ نسبت قرض کی ادائیگی کا استحقاق ہے اور اس نے جو صدقہ کیا ہے یا غلام آزاد کیا ہے یا ہدیہ دیا ہے وہ واپس لیا جائے گا، اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے اموال کو ضائع کر دے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے ضائع کرنے کے لئے لوگوں کے اموال لئے اللہ اس کو اضئع کر دے گا، ماسوا اس شخص کے جس کا صبر کرنا معروف اور مشہور ہو، جو اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتا ہو، خواہ وہ کتنا ہی ضرورتمند ہو، جیسے حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے تمام مال کو صدقہ کردیا تھا اور جس طرح انصار نے اپنے اوپر مہاجرین کو ترجیح دی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے اور کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ صدقہ کرنے کے بہانے سے لوگوں کے اموال کو اضئع کر دے، اور حضرت کعب بن مالک (رض) نے کہا، یا رسول اللہ ! میری توبہ میں سے یہ ہے کہ میں اپنے تمام مال کو اللہ اور رسول کی طرف صدقہ کر دوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے مال میں سے کچھ اپنے رکھ لو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے، تو میں نے کہا کہ خیبر میں جو میرا حصہ ہے میں اس کو اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔
(صحیح البخاری کتاب الزکوۃ باب : ١٨ لاصدقۃ الاعن ظھر غنی اسی وقت صدقہ کرے جب صدقہ کرنے کے بعد اس کے پاس خوش حالی رہے)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوش حالی رہے اور اپنے عیال سے ابتداء کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٢٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٧٢٧ )
تنگی میں دوسروں کے لئے ایثار کرنے کا ضابطہ
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
امام طری وغیرہ نے کہا ہے کہ جس شخص کا بدن تندرست ہو، اس کی عقل صحیح ہو، اس پر کسی کا قرض نہ ہو اور وہ شخص فقر و فاقہ پر صبر کرسکتا ہو اور اس کے عیال نہ ہوں، یا عیال ہوں اور وہ بھی مال نہ ہونے پر صبر کرسکتے ہوں، تو جمہور کے نزدیک اس کے لئے اپنے تمام مال کو صدقہ کرنا جائز ہے، اور اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو اس کے لئے اپنے تمام مال کو صدقہ کرنا جائز نہیں ہے اور بعض علماء نے کہا اس کا وہ صدقہ واپس لیا جائے گا، حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق (رجعی) دے کر اپنا تمام مال اپنے بیٹوں میں صدقہ کردیا تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ تم یہ طلاق واپس لو، اور تقسیم کیا ہوا مالبھی واپس لو ورنہ میں حکم دوں گا کہ تمہاری قبر پر بھی رجم کیا جائے جیسا کہ ابورغال کی قبر کو رجم کیا گیا تھا (مسند احمد ج ٢ ص ١٤ ملحضاً ) اور ایک محتاج شخص نے اپنے غلام کو مدبر کردیا (یعنی اس کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہوگا) تو آپ نے اس غلام کو فروخت کر کے اس کی قیمت اس محتاج شخص کو واپس کردی۔ امام طربی نے کہا : ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ مذکور الصدر شرائط کے ساتھ اپنے تمام مال کو صدقہ کرنا جائز ہے لیکن مختار اور مستحب یہ ہے کہ صرف تہائی مال کو صدقہ کرے، تاکہ حضرت ابوب بکر کے فعل اور حضرت کعب بن مالک کے فعل میں تطبیقف رہے (علامہ عینی حفنی نے بھی اسی طرح لکھا ہے : عمدۃ القاری ج ٨ ص ٤٢٢، دارالکتب العلمیہ بیروت : ١٤٢١ ھ) اور جس حدیث میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوشل حالی رہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اتنا زیادہ صدقہ نہ کرے کہ صدقہ کے بعد وہ خود اور اس کے اہل و عیال محتاج ہوجائیں اور اس کے پاس اتنا مال رہے کہ جس سے وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرسکے، یعنی وہ بھوک دور کرنے کے لئے کھانا کھا سکیں، کیونکہ بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا اور اپنی ستر پوشی کرسکیں، اور ان کو کوئی اذیت پہنچے تو اس کو دور کرسکیں اور اگر صدقہ کرنے کے بعد اس کے پاس ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مال نہ بچے تو پھر اپنی ضروریات پر کسی کے لئیایثار کرنا جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے، کیونکہ اس صورت میں اگر وہ دوسروں کو ترجیح دے گا تو لازم آئے گا کہ وہ بھوک سے اپنے آپ کو ہلاک کر دے یا اپنے آپ کو ضرور میں مبتلا کرے یا اپنے آپ کو برہنہ کرے، اور اپنے حقوق کی رعایت کرنا ہرحال میں راجح ہے اور جب یہ واجبات ساقط ہوجائیں تو پھر ایثار کرنا جائز ہے اور اس وقت اس کا صدقہ کرنا افضل ہوگا کیونکہ وہ فقر اور مشقت کی شدت کو بردشات کرے گا اور اس طرح دلائل میں جو تعارض ہے وہ دور ہوجائے گا۔ (فتح الباری ج ٤ ص 47-48 ملحضاً مطبوعہ دارلافکر بیروت، 14919 ھ)
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حفنی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں :
انسان کا اپنا حق دوسروں پر مقدم ہے، اولاد اور بیوی کا خرچ بالا تفاق فرض ہے اور خادم کا خرچ بھی واجب ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیرت، ١٤٢١ ھ)
اپنے اوپر، اپنے عیال پر اور دوسروں پر خرچ کرنے کی ترتیب
نیز عالمہ بدر الدین عینی حنفی ” اپنے عیال سے ابتداء کرو “ کی شرح میں لکھتے ہیں :
امام النسائی نے طارق محاربی کی سند سے روایت کیا ہے : ہم جب مدینہ منورہ میں آئے تو اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ فرما رہے تھے : دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے، اپنے عیال سے (دینے کی) ابتداء کرو، تمہاری ماں، تمہارا باپ، تمہاری بہن اور تمہارا بھائی پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، جو تمہارے زیادہ قریب ہو۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٣١)
اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سروایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صدقہ کرو، ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا : اس کو اپنے نفس پر خرچ کرو، اس نے کہا، میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نیف رمایا : اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نیف رمایا : اس کو اپنی اولاد پر خرچ کرو، اس نے کہا، میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نے فرمایا : اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو، اس نے کہا، میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نے فرمایا، تم اس کے مصرف کو خود بہتر جانتے ہو۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٣٤ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٢٣٥، اس حدیث کی سند حسن ہے)
امام ابن حبان نے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ہے اور امام ابودائود اور حاکم نے اولاد کو بیوی پر مقدم کیا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :1691، المستدرک ج ١ ص 415 قدیم المستدرک رقم الحدیث :1514 ھجدید تخلیص الحبیر رقم الحدیث :1666)
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ جب تم اس ترتیب پر غور کرو گے تو جان لو گے، کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے الاولی فالاولیٰ اور الاقرب فالا قرب کو مقدم کیا ہے اور آپ نے یہ حکم دیا ہے کہ انسان پہلے اپنے اوپر خرچ کرے پھر اپنی اولاد پر کیونکہ اولاد اسی کے جز کی طرح ہے اور جب وہ اس پر خرچ نہ کرے اور کوئی اور بھی ان پر خرچ کرنے میں اس کے قائم مقام نہ ہو تو وہ ہلاک ہوجائیں گے، پھر تیسرے درجہ میں بیوی کا ذکر فرمایا اور اس کو اولاد سے کم درجہ میں رکھا، کیونکہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو خرچ نہیں دے گا تو ان میں تفریق کردی جائے گی اور اس کو اس کے شوہر کی طرف سے یا اس کے محرم کی طرف سے اس کا خرچ دیا جائے گا، چوتھے درجہ میں اس کے خادم کا ذکر کیا، کیونکہ اگر وہ اس کو خرچ نہیں دے گا تو اس کو فروخت کردیا جائے گا، (یہ غلام ہونے کی صورت میں ہے اور اگر وہ آزاد ہو تو کہیں اور نوکری کرلے گا) علامہ خطابی کا کلام ختم ہا۔
ہمارے شیخ زین الدین نے کہا : ہمارے اصحاب کا یہی مختار ہے کہ نابالغ اولاد کا خرچ بیوی کے خرچ پر مقدم ہے، علامہ نووی شافعی نے بیوی کے خرچ کو اولاد کے خرچ پر مقدم کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اولاد اس کا جز اور اس کا حصہ ہے اور بیوی اجنبیہ ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٨ ص 424-425 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1421 ھ)
بچوں اور بیوی کے بعد ماں باپ اور اجداد کا خرچ بھی واجب ہے بہ شرطی کہ وہ محتاج ہوں ” وصاحبھا فی الدین معروقاً (لقمان : ١٥) دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے رہنا۔ (ہدایہ اولین ص 445)
ترتیب مذکور کے متعلق مزید احادیث
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ب سے افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوش حلای ہو، اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اور اپنے عیال سے دینے کی ابتداء کرو، عورت کہے گی : مجھے کھلائو یا مجھے طلاق دے دو ، اور غلام کہے گا، مجھے کھلائو اور مجھ سے کام لو اور (نابالغ) بیٹا کہے گا : مجھے کھلائو، تم مجھے کس پر چھوڑ رہے ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٥٥، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٧٢٧، عالم الکتب)
حضرت جابر بن سمرہ (رض) باین کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تم میں سے کسی کو خیر عطا فرمائے تو وہ اپنے ینفس سی اور اپنے گھر والوں سے ابتداء کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٢٢ )
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں تھے، اس وقت ایک شخص انڈے کے برابر سونا لے کر آیا، اس نے کہا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے یہ معدن (کان) سے ملا ہے، آپ اس کو لے لیں، یہ صدقہ ہے، میرے پاس اس کے سوا اور مال نہیں ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کیا، وہ پھر دائیں جانب سے آیا، آپ نے اس سے اعراض کیا وہ پھر بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اعراض کیا وہ پھر پیچھے سے آیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لے کر پھینک دیا اگر وہ اس کو لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ایک شخص کوئی چیز لے کر آتا ہے جس کا وہ مالک ہے اور کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد محتاجی نہ ہو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٧٣)
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہوگا اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس غلام کو فروخت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : تم اس کی قیمت کے زیادہ حق دار ہو اور اللہ اس سے غنی ہے۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٢٣٤ اس کی سند امام بخاری کی شرط کے مطابق صحیح ہے)
صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر جان کا ایثار کرنا جائز ہے
علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :
مال کے ساتھ ایثار کرنے سے زیادہ مرتبہ جان کے ساتھ ایثار کرنے کا ہے اور سب سے افضل سخاوت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت میں جان کی سخاوت کرنا ہے، پس حدیث صحیح میں ہے :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن حضرت ابوطلحہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ڈھال بن گئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن کے احوال پر مطلع ہونے کے لئے جھانک رہے تھے، تب حضرت ابوطلحہ نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ مت جھانکیں، کہیں آپ کو دشمن کا کوئی تیر نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینہ کے لئے ڈھال ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨١١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨١١)
وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آنے والے تیروں کے سامنے اپنا ہاتھ کرتے رہے حتیٰ کہ ان کا وہ ہاتھ شل ہوگیا۔ (احکام القرآن ج ٤ ص 219 دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1408 ھ)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ نے بھی علامہ ابن العربی کی اتابع میں اسی طرح لکھا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 18 ص 27)
تاہم اپنی جان کے ساتھ ایثار کرنا صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہے، کسی اور کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس کے لئے مسلمان اپنا جسم یا جسم کا کوئی عضو قربان کر دے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ اپنی سند کے ساتھ یزید بن السکن سے روایت کرتے ہیں :
جنگ احاد کے دن جب قتال میں شدت آگئی اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں اور دشمن آپ کے قریب آپہنچا تھا، حضرت مصعب بن عمیر (رض) نے دشمن کو آپ سے دور کیا اور وہ شہید ہوگئے اور حضرت ابود جانہ سماک بن خرشہ نے دشمن کو آپ سے دور کیا اور وہ شدید زخمی ہوگئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ خون آلود ہوچکا تھا اور آپ کے سامن کے دانت کا تہائی حصہ شہید ہوچکا تھا اور آپ کا ہونٹ زخمی ہوگیا تھا اور آپ کا رخسار زخمی ہوچکا تھا، اس وقت آپ نے فرمایا : وہ کون ہے جو ہمارے لئے اپنی جان دے گا ؟ اس وقت انصار کے پانچ نوجوان کود کر نکلے، ان میں حضرت زیاد بن الکسن (رض) بھی تھے، انہوں نے زبردست قتال کیا حتیٰ کہ دشمن کو آپ سے دور کردیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زیاد بن السکن سے فرمایا : میرے قریب ہو، وہ زخموں سے چور تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا سر گھسیٹ کر اپنے قدم مبارک پر رکھ لیا اور حضرت زیاد نے اسی حالت میں جان دے دی۔
بہ چہ ناز رفتہ باشد جہان نیاز مند ہے کہ بہ وقت جاں سپردن بہ سرش رسیدہ باشی
محب صادق کس شان سے دنیا سے گیا ہے کہ وہ جان دیتے وقت اپنے محبوب آقا کے قدموں میں پہنچ کا تھا
(تاریخ کبیرج ٨ ص 197-198 رقم الحدیث : ١٢٤٨٤، دار الکتب العلمیہ، بیروت ١٤٢٢ ھ)
علامہ ابو عمر ابن عبدالبر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ علامہ ابن الاثیر علی بن محمد الجزری المتوفی ٦٣٠ ھ اور علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔
(الاستیعاب ج ٢ ص 106 رقم الحدیث : ٨٣٣، اسد الغابہ ج ٢ ص 335، رقم الحدیث :1799، الاصابہ ج ٢ ص 482، رقم الحدیث :2861 دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی ایک گھاٹی میں سات انصاری اور دو قریشی صحابہ کے ساتھ تنہا تھے، جب مشرکین نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے فرمایا : جو ان کو ہم سے دور کر دے گا، اس کے لئے جنت ہے، یا فرمایا : وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا، پھر ایک انصاری نے آگے بڑھ کر قتال کیا حتیٰ کہ وہ شہید ہوگیا، مشرکین نے پھر آپ کو گھیر لیا، آپ نے فرمایا : جو ان کو ہم سے دور کرے گا اس کے لئے جنت ہے یا فرمایا : وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا، پھر انصار میں سے ایک اور آگے بڑھا اور اس نے قتال کیا، حتیٰ کہ وہ شہید ہوگیا، یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتیٰ کہ وہ ساتوں انصاری شہید ہوگئے، پھر آپ نے دو قریشویں سے فرمایا : ہم نے اپنے (انصاری) بھائیوں سے انصاف نہیں کیا (یہ آپ نے ترجما فرمایا)؎(صحیح مسلم رقم الحدیث :1789 السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :8651 مسند احمد ج ٣ ص 286 مصنف ابن ابی شیبہ ج ٤ ۃ ص 399 مسند ابویعلی رقم الحدیث : صحیحابن حبان رقم الحدیث :4718 سنن بیہقی ج ٩ ص ٤٤ )
امام ابوبکر احمد، بن حسین بیہقی متوفی 458 اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
محمود بن عمرو بن یزید بن السکن بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن جب دشمنوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیر لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی ہے ہمارے لئے اپنی جان فروخت کر دے ؟ تو حضرت زیاد بن الکسن (رض) پانچ انصاریوں کے ساتھ اٹھے اور ایک ایک کر کے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی جان فدا کرتے رہے اور سب سے آخر میں حضرت زیاد بن الکسن شہید ہوئے پھر مسلمان بڑی تعداد میں آئے اور انہوں نے دشمنوں کو آپ سے دور کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیاد کو میرے قریب کرو، مسلمانوں نے ان کو قریب کیا اور ان کا رخسار آپ کے قدم مبارک پر رکھ دیا اور انہوں نے اسی حال میں اپنی جان دے دی۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٣ ص ٢٣٤ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٣ ھ)
حضرت قیس بن ابی حازم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کرتے ہوئے حضرت ابوطلحہ انصاری (رض) (مسلسل تیر لگنے سے) شل ہوگیا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3724-4063)
تاہم اپنی جان کے ساتھ ایثار کرنا صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہے کسی اور کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس کے لئے مسلمان اپنا جسم یا جسم کا کوئی عضو قربان کر دے۔ اس کی مکمل تحقیق ہم نے ” تبیان القرآن “ ج ٩ ص 154-190 میں کردی ہے۔
” الشح “ کا معنی اور اس کے متعلق احادیث اور آثار
اس کے بعد اس آیت کے آخری فقرے میں فرمایا : اور جن کو ان کے نفسوں کے بخل سے بچایا گیا سو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیت میں ” الشح “ کا لفظ ہے جس کا ترجمہ ہم نے بخل کیا ہے، علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے کہا ہے کہ حرص کے ساتھ جو بخل ہو اس کو ” الشح “ کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لئے کہا جاتا ہے جس کی عادت بخل کرنا ہو۔ (المفردات ج ١ ص 337، مکتبہ نزارمصطفی بیروت، ١٤١٨ ھ)
حضرت ابن مسعود (رض) نے شح اور بخل میں فرق کیا ہے، انہوں نے کہا : خرچ کی جگہ خرچ نہ کرنا بخل ہے اور اپنے بھائی کا مال ظلماً کھانا ” الشح “ ہے۔
طائوس نے کہا : جو چیز اپنے پاس ہو اس کو خرچ نہ کرنا بخل ہے اور جو چیز لوگوں کے پاس ہوا اس کے خرچ کرنا پسند کرنا شح ہے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے زکوۃ ادا کی اور مہمان کی ضیافت کی وہ شح سے بری ہوگیا۔ (شعب الایمان رقم الدیث :10842)
حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظلم کرنے سے ڈرو، کیونکہ ظلم قیامت کا اندھیرا ہے اور شح کرنے سے بچو، کیونکہ شح نے تم سے پہلی امتوں کو ہلاک کردیا، کیونکہ شح نے ان کو ناحق قتل کرنے اور حرام کام کرنے پر ابھارا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2578 شرح السنتہ رقم الحدیث :4056 سنن بیہقی ج ٦ ص 39 مسند احمد ج ٣ ص 323، المستدرک ج ١ ص 12 مسند حمد ج ٢ ص ٤٣١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6248)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ اموال ان کے لئے ہیں جنہوں نے ان کے بعد ہجرت کی، وہ دعا کرتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں معاف فرما اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب ! بیشک تو بےحد شفقت کرنے والا مہربان ہے۔
صحابہ اور اخیار تابعین سے محبت کا وجوب
یہ آیت تمام تابعین کو شامل ہے اور قیامت تک ان کے بعد آنے والے مسلمانوں کو، اس سے پہلی آیت میں قفرائ، مہاجرین کا اور انصار کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں تابعین اور بعد کے مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے۔
یہ آیت کریمہ اس پر دلیل ہے کہ تمام صحابہ سے محبت رکھنا واجب ہے، کیونکہ اللہ نے مہاجرین اور انصار کے بعد آنے والے مسلمانوں کے مال فئے کا حصول اس پر موقوف کیا ہے کہ وہ مہاجرین اور انصار سے دسوتی اور محبت رکھیں اور ان کے لئے استغفار کریں اور اپنے دلوں میں ان کے خلاف کینہ نہ رکھیں اور جس نے اپنے دل میں ان کے خلاف کینہ رکھا، وہ مال فئے کا مستحق نہیں ہے۔
علامہ الحسین بن مسعود البغوی المتوفی 516 ھ لکھتے ہیں :
ہر وہ شخص جس کے دل میں کسی ایک صحابی کے لئے بھی کینہ ہو اور وہ تمام صحابہ سے محبت نہ رکھے، وہ اس آیت کے مصداق میں داخل نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مئومنین کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں : (١) مہاجرین (٢) انصار (٣) تابعین یعنی بعد میں آنے والے وہ مسلمان جو ان سے محبت کرتے ہوں اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہوں اور ان کے دلوں میں ان کے خلاف کینہ نہ ہو۔
ابن ابی لیلیٰ نے کہا : مسلمانوں کی یہ تین قسمیں ہیں، تم کوشش کرو کہ تم ان اقسام سے خارج نہ ہو۔
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تم کو یہ حکم دیا ہے کہ تم اصحاب محمد کے لئے استغفار کرو اور تم ان کو برا کتے ہو اور میں نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ امت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ اس کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں پر لعنت نہ کریں۔
مالک بن مغول بیان کرتے ہیں کہ شعبی نے کہا : اے مالک ! یہود و نصاریٰ رافضیوں پر ایک درجہ فضیلت رکھتے ہیں، یہود سے سوال کیا گیا : تمہاری ملت کے سب سے اچھے لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب اور نصاریٰ سے سوال کیا گیا : تمہاری ملت کے سب سے اچھے لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب اور رافضیوں سے سوال کیا گیا : تمہاری ملت کے بدترین لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب۔
امام مالک بن انس نے کہا، جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے کسی کی تنقیص کی یا اس کے دل میں کسی صحابی کے خلاف کینہ ہو تو اس کا مسلمانوں کے مال فئے میں کوئی حق نہیں ہے جیسا کہ اس آیت کا تقاضا ہے۔
(معالم التنزیل ج ٥ ص 61 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
صحابہ کو سب و شتم کی ممانعت اور مذمت میں احادیث
امام ابو جعفر محمد بن عمرو العقیلی المیک المتوفی ٣٢٢ٌ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لئے میرے اصحاب اور میری سسرال والوں کو پسند فرمایا اور عنقریب ایک قوم آئے گی جو ان کو برا کہے گی اور ان کی تنقیص کرے گی، پس تم ان کے ساتھ مت بیٹھنا اور نہ ان کے ساتھ پینا اور نہ ان کے ساتھ نکاح کرنا۔ (کتاب الضعفاء الکبیرج ١ ص 126 دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)
یہ حدیث حسب ذیل کتب میں بھی ہے :
السنتہ لا بن عاصم ج ٢ ص 483 حلیتہ الاولیاء ج ٢ ص ١١ المستدرک ج ٣ ص 632، جمع الجوامع ج ٢ ص 228، کنز العمال ج ١١ ص 529 ۔
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے میرے اصحاب کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے اور ان میں سے میرے لئے چار کو فضیلت دی ہے، یعنی حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) ، سو ان کو میرے اصحاب بنایا، اور فرمایا : میرے تمام اصحاب میں خیر ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور میری امت میں چار قرون کو فضیلت دی، قرن اول، قرن ثانی، قرن ثالث اور قرن رابع۔ (مسند البزار رقم الحدیث :2763، حافظ الہیثمی نے کہا : اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث :16383)
حضرت عیاض انصاری (رض) نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، میرے اصحاب اور میرے سسرالی رشتہ داروں کی حفاظت کرو، سو جس نے ان کی حفاظت کی اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی حفاظت کرے گا اور جس نے ان کی حفاظت نہیں کی اللہ اس سے بری ہوجائے گا اور جس سے اللہ بری ہوگا اس کو پکڑے گا۔
(المعجم الکبیرج ١٧ ص 369 حافظ الہیثمی نے کہا، اس کے راویوں کی توثیق کی گی ہے۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث :16384)
حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں : صحابہ نے نبشی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وفات کیوقت کہا، یا رسول اللہ ! آپ ہمیں وصیت کیجیے، آپ نے فرمایا : میں مت ہیں مہاجرین میں سے سابقین اولین کے متعلق وصیت کرتا ہوں اور ان کی اولاد کے متعلق اور ان کے بعد کے لوگوں کے متعلق، اگر تم نے ان کی خیر خواہی نہ کی تو تمہارا کوئی فرض اور نقل قبول نہیں کیا جائے گا۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث :878 مسند البزار رقم الحدیث :2773 اس کے تمام راوی ثقہ ہیں)
حضرت عویم بن ساعدۃ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھجے فضیلت دی اور میرے اصحاب کو فضیلت دی اور ان میں سے میرے وزرائ، انصار اور سسرالی رشتہ دار بنا دیئے، سو جس نے ان کو برا کہا، اس پر اللہ کی لعنت ہو اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی، اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نقل۔
(المعجم الکبیرج ١٧ ص 140 المعجم الاوسط رقم الحدیث :459 اس کی سند میں یزید بن ربیعہ متروک ہے)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اصحاب کو برا کہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : 1867 اس کی سند کی توثیق کی گئی ہے۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث :16430)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں ایک قوم ہوگی جس کو رافضی کہا جائے گا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔ الحدیث
(مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث :2586 مسند البزار رقم الحدیث :2777 المعجم الکبیر رقم الحدیث :12997)
اس آیت سے ہمارے علماء اہل سنت ایصال ثواب کے جواز پر بھی استدلال کرتے ہیں، لیکن ہم النجم :39 میں اس پر اتنی تفصیل سے کام کرچکے ہیں جو شاید ہماری اس کتاب کے سوا اور کہیں نہیں ملے گا۔