Site icon اردو محفل

ذکرِ خیر حضرت خواجہ محمد صادق علیہ الرحمہ (گلہار شریف)

ذکرِ خیر حضرت خواجہ محمد صادق علیہ الرحمہ (گلہار شریف)
از: افتخار الحسن رضوی

۳۱ دسمبر ۲۰۰۸ کی صبح ہم ڈڈیال سے جہلم کی طرف سفر کر رہے تھے کہ پلاک پل کے نزدیک غیر متوقع رش اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھ کر حیرت ہوئی۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب گلہار شریف وصال فرما گئے ہیں۔ ایک سرد صبح میں دل پگھلاا دینے والی اس خبر نے ذہن و قلب کو صدمات کی گہری وادیوں میں دھکیل دیا۔ حضور خواجہ عالم قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ بلا شبہ اپنے دور کے لاثانی و بے مثال رجل عظیم تھے۔ خدا تعالٰی نے انہیں اسرار و رموزِ حقیقت سے واقفیت عطا کی تھی، وہ مردِ حق آگاہ، فنا فی الرسول، متبع سنت، جامع طریقت و شریعت، عطائے صدیق اکبر، آل و اصحاب نبی سے فیض یاب، جنید و غزالی کی معرفت سے سرشار، فدائے شاہِ نقشبند، اسلاف و اکابر کی راہ پر گامزن، بے ترتیب صفوں میں اپنی نگاہ ولایت سے ربط قائم کرنے والے، دنیا کے ہجوم سے دور لیکن اہل اللہ کی مجالسِ خلوت کی زینت، بھٹکے ہوئوں کے لیے رہبرِ کامل، وہ نفس پرستی و دین فروشی کے دور میں مردِ صادق، چور چہرے والی دنیا میں ان کا وجہہِ جمیل نور مصطفوٰی کا مظہر، وہِ گُلِ گلشنِ مصطفوی کا وردِ معطر و منبر ، خاموش لیکن دور تک سنائی دینے والے خطیبِ کامل، اپنے وجود مسعود میں تزکیہ و تصفیہ، طہارت و نفاست کے اعلٰی ترین اوصاف کے حامل و کامل، مومنانہ فراست کے مظہر کامل، حلاوت ایمانی کے بہترین نمونہ، جمالِ صدیقِ اکبر کے عکاس ، قریشی النسل ، کثیر الفیضان ، صاحب کرامت و استقامت، رجل رشید و عظیم، رضائے الٰہی میں راضی، روح و نفسِ مطمئن کے مالک، ظاہری و باطنی پاکیزگی کے نمونہ کامل ، اخلاقِ مصطفوی کا عملی نمونہ، تصوف تابع شریعت کے داعی اور اپنے دور میں اہل سنت اصحاب طریقت و شریعت کے ماتھے کا جھومر تھے۔
حضور خواجہ محمدصادق علیہ الرحمہ کی ولادت 25دسمبر 1921ء موضع لدھڑ ضلع میرپور آزاد کشمیر میں ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی کا نامِ نامی خواجہ قاضی محمد سلطان عالم علیہ الرحمہ ہے۔ آپ لڑکپن میں ہی والدِ گرامی کے سایہ عاطفت سے محروم ہو گئے لیکن حق تعالٰی نے ان مشکلات کے باجود آپ کی علومِ دینیہ کے لیے رہنمائی کا انتظام فرمایا۔ تصوف کے ساتھ ساتھ آپ نے فارسیِ لغت، مروجہ دینی و عصری علوم باقاعدہ حاصل کیے۔ آپ کے دینی اساتذہ میں بڑا نام حافظ محمد عبد اللہ لدھڑوی علیہ الرحمہ کا ہے جو مفتی عبد الحکیم علیہ الرحمہ کے والدِ گرامی بھی ہیں اور انہیں کے نام پر میرپور میں مرکزی مسجد مفتی عبد الحکیم قائم ہے۔ قبلہ عالم حافظ عبد اللہ لدھڑوی علیہ الرحمہ علماء عرب و عجم سے فیض یاب تھے، خصوصا حرمین شریفین کے ائمہ و مشائخ کی ان پر خاص نظر تھی۔
آپ علیہ الرحمہ دنیا کے بندے ہرگز نہ تھے، کوئی مال یا وسائل جمع نہ فرمائے لیکن اس کے باوجود کوٹلی شہر کو مدینۃ المساجد بنا دیا، اس کے ساتھ کشمیر، پاکستان اور یورپ کے متعدد علاقوں میں آپ کی برکت سے مساجد و مدارسِ دینیہ قائم ہوئے۔
آپ علیہ الرحمہ کا پہلا نکاح سال ۱۹۳۸ میں ہوا، پہلی زوجہ سے ایک صاحبزادے حضرت خواجہ عبد الواحد صدیقی (حضرت حاجی پیر صاحب علیہ الرحمہ) اور دو صاحبزادیاں عطا ہوئیں۔ دوسرا نکاح سال ۱۹۵۶ میں فرمایا اور دوسری زوجہ سے ایک صاحبزادے حضرت حافظ محمد زاہد سلطانی عطا ہوئے۔ حضرت حاجی پیر صاحب کے وصال کے بعد حافظ محمد زاہد صاحب حفظہ اللہ اپنے والدِ گرامی کے علوم و فیضان کے قاسم ہیں اور نہایت خوش اسلوبی و احسن انداز سے خانقاہ فتحیہ سلطانیہ صدیقیہ گلہار شریف کے نظام چلا رہے ہیں۔
بابا جی شیخ الحدیث علیہ الرحمہ (لبیک والے) حضرت خواجہ عالم محمد صادق علیہ الرحمہ کے صاحبزادے خواجہ عبد الواحد صدیقی علیہ الرحمہ ہی کے مرید تھے۔
آج آپ کا تیرھواں یومِ وصال ہے، احباب دعا و فاتحہ، ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔ اللہ کریم مجھ کمزور و ناقص اور عاصی و بد اطوار کو اپنے اس ولی کامل کا فیض و برکت عطا فرمائے۔ جو احباب مزار شریف پر حاضر ہوں وہ مجھ فقیر کی طرف سے دعا و سلام اور ایصالِ ثواب کر دیں تو بہت کرم ہو گا۔ جزاکم اللہ خیرا

کتبہ: افتخار الحسن رضوی
۲۷ جمادی الاول ۱۴۴۳ بمطابق ۳۱ دسمبر ۲۰۲۱

Exit mobile version