اور زمینوں اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا تو وہ ایک ہی ضرب سے ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے.
الحاقہ : ١٤ میں زمینوں اور پہاڑوں کو اٹھانے کا ذکر ہے، اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے دن آئے گا، یا اس سے مراد وہ زبردست آندھی ہے جو زمینوں اور پہاڑوں کو اٹھا لے گی، یا کوئی فرشتہ اٹھالے گا، یا بغیر ظاہری اسباب کے اللہ تعالیٰ ان کو محض اپنی قدرت سے اٹھا لے گا، پھر تمام زمینوں اور پہاڑوں پر ضرب لگائی جائے گی، پھر ان کے بعض، بعضوں کو ٹکر ماریں گے حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے کہ پس کر باریک ریت کے ذرات اور بکھرے ہوئے غبار کی طرح ہوجائیں گے، ایک اور جگہ فرمایا :
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا۔ (الزلزال : ١) جب زمین پوری طرح لرز جائے گی۔