ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا جس کی شفاعت قبول کی جاسکے۔
نیز فرمایا : ” غسلین “ کے سوا ان کا کوئی کھانا نہیں ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ ” غسلین “ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا کہ ” غسلین “ کیا ہے، کلبی نے کہا : یہ وہ پانی ہے جو دوزخیوں کے جسم سے بہے گا، یہ ان کا خون اور پیپ ہے۔
اس کے بعد بتایا کہ اس خون اور پیپ کے کھانے والے کون ہیں، فرمایا : اس کو گناہ گاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھائے گا۔ ان گناہ گاروں سے مراد مشرکین ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو حق سے باطل کی طرف تجاوز کرتے تھے۔