فَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 35
sulemansubhani نے Friday، 19 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ ۞
ترجمہ:
پس آج یہاں نہ اس کا کوئی دوست ہے
تفسیر:
الحاقہ : ٣٧۔ ٣٥ میں فرمایا : پس آج یہاں اس کا نہ کوئی دوست ہے۔ اور نہ دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی طعام ہے۔ جس کو گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔
کفار کا شفاعت سے محروم ہونا
آخرت میں کافروں کا کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا جو ان کی غم گساری کرے اور ان سے عذاب کو دور کرسکے، قرآن مجید میں ہے :
مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ۔ (المومن : ١٨)
ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا جس کی شفاعت قبول کی جاسکے۔
نیز فرمایا : ” غسلین “ کے سوا ان کا کوئی کھانا نہیں ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ ” غسلین “ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا کہ ” غسلین “ کیا ہے، کلبی نے کہا : یہ وہ پانی ہے جو دوزخیوں کے جسم سے بہے گا، یہ ان کا خون اور پیپ ہے۔
اس کے بعد بتایا کہ اس خون اور پیپ کے کھانے والے کون ہیں، فرمایا : اس کو گناہ گاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھائے گا۔ ان گناہ گاروں سے مراد مشرکین ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو حق سے باطل کی طرف تجاوز کرتے تھے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 35