المدثر : ٢٩ میں فرمایا : وہ کھال کو جھلسانے والی ہے۔
اس آیت میں ” لواحۃ “ کا لفظ ہے ” لواحۃ “ کے معنی میں دو قول ہیں (١) لیث نے کہا : ” لواحۃ “ کا معنی ہے : متغیر کرنے والی، الفراء نے کہا : وہ کھال کو جلا کر سیاہ کرنے والی ہے (٢) الحسن اور الاصم نے کہا : ” لواحۃ “ کا معنی ہے : ظاہر ہونے والی کیونکہ دوزخ کی آگ پانچ سو سال کی مسافت سے لوگوں پر ظاہر ہوجائے گی، قرآن مجید میں ہے :
ویزرت الجحیم لمن یری۔ (الزعت : ٣٦) اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی۔