Site icon اردو محفل

الحدیث المسلسل بالمصافحة (پروفیسر )

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے ایک اجتماع میں الحدیث المسلسل بالمصافحة اپنی سند سے بیان کی ، جس میں انہوں نے اپنے آپ کو حدیث کا پانچواں راوی قرار دیا ۔ پھر انہوں نے سامعین اور مخاطبین سے مصافحہ کر کے انہیں حدیث کا چھٹا راوی قرار دیا ، انہیں اجازت حدیث کے ساتھ سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے اور تمام مصافحہ کرنے والوں کو جنت اور شفاعت کی بشارت دی گئی ۔ وہ حدیث مصافحہ یہ ہے ۔
” من صافح من صافحنى الى سبع مرات وجبت علي شفاعته ” ۔
ترجمہ: جس نے اس بندے سے مصافحہ کیا جس نے مجھ سے مصافحہ کیا سات کے عدد تک تو اس کی شفاعت مجھ پر واجب ہے ۔
اس روایت کے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب پانچویں راوی اس لیئے ہیں کہ سب سے پہلے راوی یعنی صحابی ایک جن ہیں جن کا نام قاضی شمہورش جنی ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے بقول یہ جن صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنات کا قاضی بنایا تھا ، ان کی عمر 1000 سال سے زیادہ تھی اور انہوں نے یہ حدیث مسلسل بالمصافحہ الشیخ محمد الکحیل کو مصافحہ کر کے سنائی .
اس روایت کے متعلق چند معروضات ہیں ۔
جنات کا وجود غیر مرئی ہے ، ان کے احوال کی جرح و تعدیل محال ہے جو کہ حدیث کو قبول کرنے کے لئے ضروری ہے ، اسی وجہ سے اسماء الرجال کی تمام کتب جنات کے احوال سے خالی ہیں اور بغیر رواة کی تحقیق ، تفتیش اور نقد و جرح کے روایت کے عدم قبول پر تمام محققین کا اتفاق ہے ۔ اب ایک جن ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال اقدس کے سینکڑوں سال بعد شیخ محمد الکحیل کو مل کر صحابیت کا دعویٰ کرے اور حدیث مسلسل بالمصافحہ بھی روایت کرے ، جس کے احوال کا اسماء الرجال کی تمام کتب میں ذکر بھی نہ ہو تو محض ایک مجہول جن کے کہنے پر صحابیت اور روایت حدیث کا دعویٰ کیسے مسموع و مقبول ہوگا ؟ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے تو مزید یہ کہ ڈالا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنات کا قاضی بنایا تھا جو کہ بلا اصل ہے ۔
امام علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں ۔
“اما رواية الانس عن الجنات فالظاهر منعها لعدم حصول الثقة بعدالتهم .
ترجمہ: بہرحال انسانوں کا جنوں سے روایت کرنا ممنوع ہے کیونکہ ان کی عدالت کی توثیق نہیں ہو سکتی ۔
( الاشباه و النظائر ص280)
علامہ ابن حجر ھیتمی مکی علیہ الرحمہ نے بھی جنات کی روایات کو مسترد کیا ہے اور فرمایا ہے ۔
” و الجن لا نعلم عدالتهم ”
ترجمہ: اور جنات کی عدالت کو ہم نہیں جانتے ۔
( الفتاوى الحديثية ص ١٧)
حدیث مسلسل بالمصافحہ المعمر المغربی کے طریق سے بھی مروی ہے ، اس نے بھی رتن ہندی کی طرح کئی سو سال بعد صحابیت کا دعویٰ کیا تھا ، علامہ ذھبی ، ابن حجر عسقلانی اور امام سیوطی نے اس معمر کو کذاب قرار دیا ہے ۔
امام سیوطی نے الحاوی للفتاوی میں معمر کے طریق سے روایت کو موضوع اور کذب قرار دیا ہے ۔
ملا علی قاری حنفی متوفی 1014 ھ فرماتے ہیں ۔
” نسبة المصافحة المتصلة الى النبي عليه السلام ليس له اصل عند العلماء الاعلام .
( الاسرار المرفوعة في الاخبار الموضوعة ص 173 دار الكتب العلمية بيروت )
ترجمہ: مصافحہ کی نسبت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل بیان کی جاتی ہے ، علمائے اعلام کے نزدیک اس کی کوئی اصل نہیں ۔
سو ایسی روایت جس میں کذاب اور مجہول راوی ہوں اور محققین علماء کے نزدیک اس کی کوئی اصل نہ ہو اس روایت کی یوں تشہیر کرنا ، پھر اس پر سرٹیفکیٹ جاری کرنا اور محض ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے مصافحہ کرنے پر جنت اور مصطفے’کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی بشارت دینا ، کہاں کی دیانت داری اور انصاف ہے ۔
کیا صرف ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے مصافحہ کرنے پر جنت مل جائے گی ؟ صرف ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نہیں بلکہ جس منھاجی کو مصافحہ کے بعد سرٹیفکیٹ مل چکا ہے اس سے بھی مصافحہ کرنے سے جنت مل جائے گی ، کیونکہ وہ چھٹا راوی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
محمد عاطف رمضان سیالوی
جھنگ صدر ۔

Exit mobile version