القیامہ : ١٥ میں فرمایا : خواہ وہ اپنے تمام عذر پیش کرتا ہو۔
” معاذیر “ ” معذرۃ “ کی جمع ہے، اس آیت کا معنی ہے کہ انسان ہرچند کہ اپنے کاموں کا عذر پیش کرے گا اور اپنی مدافعت میں دلائل لائے گا اور ہر ممکن طریقہ سے بحث کرے گا لیکن اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کے اعضاء خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔