القیامہ : ٢٥۔ ٢٤ میں فرمایا : اور بہت چہرے مر جھائے ہوئے ہوں گے۔ اور یہ گمان کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا۔
” باسرۃ “ اور فاقرۃ “ کے معانی
القیامہ : ٢٤ میں ” باسرۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : اداس، بےرونق اور پریشان ” بسر “ کا معنی ہے : وقت سے پہلے کسی کام میں جلدی کرنا اور یہاں مراد ہے وقت سے پہلے اداس ہونا اور تیور بگڑ جانا، مجازاً اس کا معنی ترش رو ہونا اور منہ بگاڑنا بھی ہے۔