المرسلات : ٣ میں فرمایا : ” والنشرت نشرا “” نشر “ کا معنی پھیلانا ہے، اگر اس کا موصوف ہوائیں ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلا کر بارش لاتی ہیں اور اگر اس کا موصوف فرشتے ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ فرشتے جو زمین پر اترنے کے لیے اپنے پر پھیلاتے ہیں یا احکام شرعیہ کو زمین میں پھیلاتے ہیں یا فرشتے جو قیامت کے دن لوگوں کے صحائف اعمال کو پھیلائیں گے اور اگر اس کا موصوف قرآن مجید ہو تو اس کا معنی ہے : قرآن مجید کی آیات نے حکمت، ہدایت اور نصیحت کو تمام دنیا کے لوگوں کے دلوں میں پھیلا دیا اور اگر اس کا موصوف انبیاء ہوں تو اس کا معنی ہے : انبیاء (علیہم السلام) نے اپنے دین اور اپنی شریعت کو تمام دنیا میں پھیلا دیا۔