اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا اور کہا : ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے ؟۔
اور بعض مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتے تھے مگر وہ یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کی بد عقیدگیوں اور بد اعمالیوں سے حشر کے دن کوئی ضرر نہیں ہوگا، وہ کہتے : ہمارے یہ بت ہم کو اللہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے :
وَ یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللہ ِ مَالاَ یَضُرُّھُمْ وَلاَ یَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللہ (یونس : ١٨)
اور وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ( بت) قیامت کے ڈدن اللہ کے پاس ہماری شفاعت کریں گے۔
ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی سوال کیا : یہ لوگ کس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں ؟۔ پھر خود ہی جواب دیا : عظیم خبر کے متعلق۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ کسی چیز کا سوال اور جواب کے طریقہ پر بیان کرنا اس چیز کو فہم اور وضاحت کے زیادہ قریب کردیتا ہے، اس کی مثال یہ آیت ہے :