الَّذِىۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؕ – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Wednesday، 16 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الَّذِىۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؕ ۞
ترجمہ:
جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں.
معاد جسمانی کے متعلق کفار اور مشرکین کی آراء
معاد کے متعلق کفار اور مشرکین کی حسب ذیل آراء تھیں :
بعض مشرکین معاد جسمانی میں شک کرتے تھے، وہ کہتے تھے :
وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃًلا وَّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْٓ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی (حم السجدہ : ٥٠ )
میرا یہ گمان نہیں ہے کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر میں اپنے رب کے پاس لوٹایا بھی گیا تو یقینا میرے لیے اس کے پاس اچھا انعام ہوگا۔
اور بعض ان میں سے وہ تھے جو دہریوں کے عقائد کے حامل تھے، وہ کہتے تھے :
اِنْ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ (المومنون : ٣٧)
ہماری صرف یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔
اور ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کی قدرت کے منکر تھے اور مردہ انسان کے دوبارہ زندہ کرنے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر سمجھتے تھے :
وَضَرَبَ لَـنَا مَثَلاً وَّنَسِیَ خَلْقَہٗط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ۔ (یٰسین : ٧٨)
اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا اور کہا : ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے ؟۔
اور بعض مرنے کے بعد زندہ ہونے کو مانتے تھے مگر وہ یہ کہتے تھے کہ ان کو ان کی بد عقیدگیوں اور بد اعمالیوں سے حشر کے دن کوئی ضرر نہیں ہوگا، وہ کہتے : ہمارے یہ بت ہم کو اللہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے :
وَ یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللہ ِ مَالاَ یَضُرُّھُمْ وَلاَ یَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللہ (یونس : ١٨)
اور وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ ( بت) قیامت کے ڈدن اللہ کے پاس ہماری شفاعت کریں گے۔
ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی سوال کیا : یہ لوگ کس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں ؟۔ پھر خود ہی جواب دیا : عظیم خبر کے متعلق۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ کسی چیز کا سوال اور جواب کے طریقہ پر بیان کرنا اس چیز کو فہم اور وضاحت کے زیادہ قریب کردیتا ہے، اس کی مثال یہ آیت ہے :
لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَط ِ اللہ ِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ۔ (المومن : ١٦)
آج کے دن کس کی بادشاہی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی۔
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 3