پھر فرمایا : اس میں ڈرنے والوں کے لیے ضرور عبرت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا جو قصہ بیان فرمایا ہے اور فرعون کو جو رسوا کیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو عزت دی ہے اس میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے بہت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں سرکشی کرے اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرے، وہ فرعون کے انجام سے دو چار ہوگا۔