( النزعت : ۲۱ میں فرمایا : سو اس نے تکذیب کی اور نافرمانی کی۔
یعنی اس کی تکذیب کا خلاصہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے یہ معجزے ان کے دعویٰ نبوت کے صدق پر دلالت نہیں کرتے، اسی لیے اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا سے معارضہ کرنے کے لیے دوسرے شہروں میں جادوگروں کو اکٹھا کیا، قرآن مجید میں ہے :