التکویر : ۱۲ میں فرمایا : اور جب دوزخ کو بھڑکا دیا جائے گا۔
بنو آدم کے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے جہنم کو بھڑکا یا جائے گا، معتزلہ نے کہا : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ابھی جہنم کو پیدا نہیں کیا گیا کیونکہ قیامت کے دن اس کو بھڑکا یا جائے گا، اس کا جواب یہ ہے کہ جہنم کو پیدا کیا جا چکا ہے، لیکن اس کی آگ کو قامت کے دن بھڑکا یا جائے گا۔