الانفطار : ٤ میں فرمایا : اور جب قبریں شق کردی جائیں گی۔
” بعثرت “ کا معنی ہے : الٹ پلٹ کردینا یعنی اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردینا، یعنی قبروں کو شق کر کے ان میں سے مردوں کو زندہ کر کے نکال لیا جائے گا، جیسے یہ آیت ہے :
وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۔ (الزلزال : ٢) اور زمین اپنا بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔