Site icon اردو محفل

پاک بھارت جنگ: فرقہ غامدیہ کا امکانی موقف

پاک بھارت جنگ: فرقہ غامدیہ کا امکانی موقف ( پہلا حصہ)
آصف محمود

(پاک بھارت جنگ پر اگر فرقہ غامدیہ کی طرف سے تجزیہ آئے تو وہ کیسا ہو سکتا ہے؟ ایک امکانی چاند ماری پیش خدمت ہے۔)

بے شک جہاد کا اعلان کوئی گروہ نہیں کر سکتا بلکہ یہ حق صرف ریاست کو ہے تا ہم یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ریاست کو جنگ کرنی چاہیے ، جہاد نہیں ۔

ایک اہم نکتہ جو مسلمانوں کی فقہی تاریخ میں کوئی نہیں سمجھ پایا اور جسے صرف ہم نے بالصراحت بیان کر دیا وہ یہ ہے کہ جب  مروجہ اصطلاحات کفایت کر رہی ہوں تو غیر ضروری طور پر اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے گریز ہی حکمت ہے۔ اس سے تصادم تہذیب کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

یہ بات بھی پوری قطعیت کے ساتھ ہم کو سمجھ لینی چاہیے کہ ریاست جہاد کا اعلان کر سکتی ہے لیکن ریاست کی ہر جنگ جہاد نہیں ہوتی۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ایک شاگرد عزیز نے اپنی فلم میں حکمت کی یہ بات ڈالی تھی کہ  اسلام میں داڑھی ضرور ہے لیکن ڈاڑھی میں اسلام نہیں ۔ ایسی فلموں کو دیکھ لینا چاہیے اس سے شعور انسانی کو ترقی ملتی ہے۔ ویسے تو ہمارا فرقہ خود ایک بہت بڑی فلم ہے۔ تاہم فنون لطیفہ اور ذوق لطیف کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ ایک فلم ہی نہیں دیکھنی چاہیے۔ تنوع ہی زندگی ہے۔

ریاست ایک جدید تصور ہے قدیم ذہن اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں. جان لیجیے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. اسےمذہبی اصطلاحات سے گریز کرنا چاہیے.

اس باب میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن یہ حق مروجہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں حاصل کرنا چاہیے ۔ اس صورت میں اسے جنگ کہا جائے گا ، جہاد نہیں۔

اس بات کو یوں سمجھیے کہ بھارت میں اسد الدین اویسی جیسے مسلمان تو بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جہاد کی صورت میں یہ کیسے ممکن تھا کہ کہ وہ بھارت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ اس لیے یہ جنگ ہے جہاد نہیں۔

ہم اس سارے بیانیہ سے اعلان برات کرتے ہیں جس نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میں متعدد دفعہ یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر چکا ہوں کہ یہ دور مسلمانون کے عروج کا دور نہیں ہے۔ ہمیں اس دور کے تقاضوں کے تحت زندگی گزارنے کے آداب سیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات اچھی طرح  سمجھ لیجیے کہ ہماری ففقہ بھی دور عروج کی فقہ ہے۔ اب زوال کا دور ہے۔ اب زوال کی فقہ کی تشکیل کی ضرورت ہے جو مسلمانون کو بتائے کہ اس دور کے تقاضے کیا ہیں  اور کیسے ہمیں صرف اور امن کے وقفے کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ یہ کام روایتی اہل علم نہیں. یہ بھاری پتھر داماد محض  ہی اٹھا سکتے ہیں.

اس باب میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمیں جدید دنیا کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بنیان مرصوص جیسا نام رکھنا ایک تہذیبی کشمکش کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس بات کو پوری قطعیت کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے کہ تہذیبی تصادم کی اب کوئئی گنجائش نہیں رہے کیونکہ اب ٹکساس بھی ہمارا ہے بلکہ ٹکساس ہی ہمارا ہے۔ دارالکفر اور دارالاسلام جیسی بحثیں متروکات زمانہ ہیں۔

( جاری ہے)

Exit mobile version