Site icon اردو محفل

حجاج کرام کے استفسارات کا جواب

حجاج کرام کے استفسارات کا جواب !
بعض حجاج کرام کی طرف سے استفسارات آئے ہیں کہ سعودی حکومت نے اپنےحکومتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حجاج کرام کے لیے کچھ قواعد وضوابط بنائے ہیں، ان میں سے ایک صورت حال ایسی ہے کہ 10 ذوالجہ کو ایک حاجی صاحب کی قربانی پہلے ہوجاتی ہے اور ان کی رمی کی باری سہ پہر چار یا پانچ بجے آتی ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ احناف کے نزدیک پہلے دن رمی، پھر قربانی اور پھر حلق کے درمیان ترتیب واجب ہے اور ترک واجب پر دم لازم آتا ہے۔ لہذا جو حجاج کرام ایسی صورت حال میں مبتلا ہوجائیں تو انھیں اختیار ہے کہ
وہ یا تو دم دید میں یا دم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ (مساوی صدقہ فطر) دیدیں یادونوں وقت پیٹ بھر کر مساکین کو کھانا کھلا دیں یا تین روزے رکھ لیں، کیونکہ اس میں ان کی اپنی مرضی یا کوتاہی کا کوئی دخل نہیں ہے، مزید یہ کہ بعض کی رمی کا وقت دس اور گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی درمیانی شب کو صبح چار یا پانچ بجے آرہا ہے، اگر چہ رات کو رمی کرنا مکروہ ہے مگر سعودی حکومت کے نظم کے مطابق رات کو رمی کرنے میں کراہت مرتفع ہوجائے گی۔ باقی رہا رات میں رمی کرنے پر دم یا صدقہ کالزوم، وہ کسی صورت میں بھی نہیں ہوتا ہے۔ لہذا امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے اجر و ثواب میں بھی نہیں فرمائے گا۔
4 جون 2025
مفتی منیب الرحمن

Exit mobile version