Site icon اردو محفل

اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَ سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 29

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک مجرمین ( دنیا میں) مؤمنوں پر ہنستے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک مجرمین ( دنیا میں) مؤمنوں پر ہنستے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے۔ اور جب اپنے گھروں کو جاتے تو ہنسی خوشی لوٹتے۔ اور جب مؤمنوں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ ضرور گم راہ ہیں۔ حالانکہ یہ (کفار) ان ( مؤمنوں) پر نگران نہیں بنائے گئے۔ پس آج مؤمنین کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ عزت والی مسندوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ کفار کو اپنے کاموں کا کیا بدلہ ملا ہے ؟۔ (المطففین : ٣٦۔ ٢٩ )

دنیا میں کفار کا مؤمنوں پر ہنسنا اور ان کا مذاق اڑانا اور آخرت میں مؤمنوں کا کفار سے بدلہ لینا

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ آخرت میں ابرار اور نیکیوں کو کیا کیا نعمتیں ملیں گی اور ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کفار دنیا میں مؤمنوں کا کس طرح مذاق اڑاتے تھے اور ان کی تحقیر کرتے تھے اور آخرت میں معاملہ الٹ ہوجائے گا اور اب مؤمنین کفار کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر ان پر ہنسیں گے، ان آیات سے مقصود مؤمنین کو تسلی دینا ہے اور ان کے دلوں کو تقویت پہنچانا ہے۔

المطففین : ٢٩ میں فرمایا : بیشک مجرمین ( دنیا میں) مؤمنوں پر ہنستے تھے۔

صنادید کفار مثلاً ابو جہل، الولید بن مغیرہ اور العاص بن وائل سہمی وغیرہ، حضرت عمار، حضرت صہیب اور حضرت بلال (رض) پر ہنستے تھے اور دیگر فقراء مسلمین کا مذاق اڑاتے تھے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔

اس آیت کے شان نزول میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت علی (رض) مسلمانوں کے ساتھ جا رہے تھے، منافقین ان کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور ایک دوسرے کو آنکھیں ماریں، پھر اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ کر کہا : ہم نے آج ایک گنجے کو دیکھا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 29

Exit mobile version