الاعلیٰ : ١٨ میں فرمایا : بیشک یہ ( نصیحت) پہلے صحائف میں بھی ( مذکور) ہے۔
کون سی نصیحت سابقہ صحائف میں مذکور ہے ؟
اس میں اختلاف ہے کہ اس نصیحت کا اشارہ کس طرف ہے، بعض علماء نے کہا : اس کا اشارہ اللہ تعالیٰ کی توحید، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت، کفار کو عذاب کی وعید اور مؤمنین کو ثواب کی بشارت کی طرف ہے۔
بعض علماء نے کہا : اس کا اشارہ ” قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ ۔ “ (الاعلیٰ : ١٤) کی طرف ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ہر نا مناسب کام سے پاک اور صاف کرے، قوت نظریہ کو تمام عقائد باطلہ سے پاک کرے اور قوت ِ عملیہ کو تمام مذموم اخلاق سے پاک کرے۔
” وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ “ (الاعلیٰ : ١٥) میں یہ بتایا ہے کہ انسان اپنی روح کو اللہ تعالیٰ کی معرفت سے منور کرے اور ” فصلی “ میں یہ بتایا ہے کہ انسان اپنے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے مزین کرے۔
” بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ “ الاعلیٰ : ١٦) میں یہ اشارہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی زیب وزینت میں غافل ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کو فراموش نہ کرے۔
” وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔ “ (الاعلیٰ : ١٧) میں یہ رہنمائی کی ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ثواب کی طرف رغبت کرے اور اخروی انعامات کی طرف۔
اور چونکہ اشارہ اس کی طرف کیا جاتا ہے جو زیادہ قریب مذکور ہو، اس لیے متبادر یہ ہے کہ یہ اشارہ الاعلیٰ : ١٧ کی طرف ہے اور اس آیت کی نظریہ آیت ہے :
وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الشعرائ : ١٩٦) بیشک یہ ( قرآن) انبیاء سابقین کے صحائف میں بھی مذکور ہے۔